اتوار , 28 فروری 2021

عراقی فوج کے ہاتھوں 1000 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک/ رمادی شہر آزاد

عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے مغربی صوبے الانبار کے صدر مقام رمادی کو داعش کے قبضے مکمل طور پر آزاد کرالیا ہے۔

823feeb95b503ef2bad6efcd476f7fe1

عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے مغربی صوبے الانبار کے صدر مقام رمادی کو داعش کے قبضے مکمل طور پر آزاد کرالیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ایک ہزار سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے ہتھیاروں کے متعددگوداموں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ رمادی کی آزادی کے بعد عراقی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

الانبار کے گورنر صہیب الراوی نے رمادی شہر کی آزادی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوان رمادی شہر کے مرکزی علاقے الحوز میں نصب بموں اور بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رمادی کی آزادی کی کارروائی میں ایک ہزار سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ رمادی شہر کو فوج، عوامی رضاکارفورس اور قبائلیوں کے تعاون سے آزاد کرایا گیا ہے۔صہیب الراوی نے کہا کہ رمادی کی آزادی سے ثابت ہوگیا ہےکہ عراقی فوج ملک کے دیگر علاقوں کو داعش دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی پوری توانائی رکھتی ہے۔عراقی پارلیمنٹ کے سربراہ سلیم الجبوری نے رمادی شہر کی آزادی کوبھی داعش کی حتمی شکست کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ داعش کی طاقت کا شیرازہ بکھر گیا ہے اور اب عراقی فوج صوبہ نینوا کی جانب پیشقدمی شروع کرے گی۔ ادھر الانبار کے گورنر ہاوس کے ترجمان مہند حیمور نے کہا ہے کہ رمادی میں داعش کے باقی ماندہ عناصر انتہائی کمزور ہوگئے ہیں ان میں عراقی سیکورٹی فورس کے خلاف کسی بھی اقدام کی سکت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی صورتحال پوری طرح سے عراقی فوج کے کنٹرول میں ہے اور ہم وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے فتح کے باضابطہ اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔دوسری جانب رمادی کی آزادی کی خبریں سامنے آنے کے بعد دارالحکومت بغداد میں جشن کا ماحول پیدا ہوگیا اور لوگ خوشیاں مناتے سڑکوں نکل آئے۔ کاظمین، صدر ٹاون اور المنصور کے علاقوں میں لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور فوج اور عوامی رضاکاروں کی حمایت میں نعرے لگائے۔اس سے پہلے اتوار کے روز عراقی فوج کی مشترکہ آپریشن کمانڈ کے ترجمان بریگیڈیئر یحیی الزبیدی نے ہمارے نمائندے کو بتایا تھا کہ رمادی کے دس میں سے آٹھ علاقے اس وقت پوری طرح سے عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے کنٹرول میں ہیں اور باقی دو علاقے آئندہ چند گھنٹے کے دوران آزاد ہوجائیں گے۔ عراقی فوج نے صوبہ الانبار کے صدر مقام رمادی کو داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے تیرہ جولائی کو آپریشن کا آغاز کیاتھا تاہم امریکہ کی رخنہ اندازیوں کے باعث آپریشن سست روی کا شکارہوگیا تھا۔ عراقی فوج نے گزشتہ ہفتے ایک بار پھر آپریشن کا عمل تیز کرکے دہشت گردوں کو سنگین شکست سے دوچار کردیا۔ داعش کے دہشت گردوں نے مئی دوہزار پندرہ میں رمادی شہر پر قبضہ کیا تھا جس کے نتیجے میں سات لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …