جمعہ , 26 فروری 2021

امریکی ووٹرز میں اتنا غصہ کیوں ہے؟

11

امریکیوں کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ وہ ایک مثبت سوچ رکھتے ہیں، لیکن جیسے جیسے نومبر کے صدارتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، عوامی رائے کے سروے بتاتے ہیں کہ امریکی ووٹر بھی اس مرتبہ غصے میں ہیں۔
ممکن ہے اس ہی وجہ سے رپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ یا پھر ڈیموکریٹک پارٹی کے برنی سانڈرس جیسے غیر مقبول امیدوار کامیاب ہو رہے ہیں۔
لیکن وہ کیا وجوہات ہیں جو امریکی عوام کی مایوسی میں اضافہ کر رہی ہیں۔
دسمبر 2015 میں کیے گئے سی این این اور او آر سی کے سروے کے مطابق 69 فیصد امریکی ملک میں ہونے والے واقعات اور حالات سے یا تو ’شدید ناراض‘ ہیں یا پھر’کافی ناراض‘ ہیں۔
این بی سی اور وال سٹریٹ جرنل کے گذشتہ نومبر میں کیے جانے والے سروے کے مطابق 69 فیصد افراد ملک کے سیاسی نظام سے ناراض ہیں جو صرف وال سٹریٹ اور واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے دولت مند اور بااثر افراد کے لیے ہی کام کرتا ہے۔
این بی سی اور سکوائر سروے کے مطابق بہت سے لوگ نہ صرف ناراض ہیں بلکہ وہ گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ناراض ہیں۔ ان میں رپبلکن ووٹر کی تعداد 61 فیصد ہے اور سفید فام لوگوں کا تناسب 54 فیصد ہے۔ ان ناراض لوگوں میں 42 فیصد ڈیموکریٹس، 43 فیصد لاطینی اور 33 فیصد افریقی نسل کے امریکی شامل ہیں۔
امیدواروں نے عوام کے مزاج کو سمجھتے ہوئے تقاریر کرنا شروع کر دی ہیں۔ جن میں دونلڈ ٹرمپ عوام کی مایوسی کو سب سے زیادہ سمجھتے ہوئے اپنی تقاریر میں کہتے ہیں کہ وہ ’بہت بہت بہت زیادہ غصے میں ہیں‘ اور ’مجھے خوشی ہوگی کہ آپ سب کے غصے کو بھی کم کردوں۔‘
ان کے مقابلے پر دوسرے رپبلکن امیدوار بین کارسن کہتے ہیں وہ ایسے بہت سے امریکیوں سے ملے ہیں ’جو مایوس اور ناراض ہیں کیونکہ ان کو امریکی خواب ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔‘
ڈیموکریٹک امیدوار برنی سانڈرس کا کہنا ہے کہ ’میں ناخوش ہوں اور لاکھوں امریکی بھی ناخوش ہیں۔‘ جبکہ ہیلری کلنٹن کہتی ہیں کہ انھیں ’معلوم ہے کہ لوگ کیوں ناراض ہیں۔‘
یہاں وہ پانچ وجوہات بیان کی جا رہی ہیں جن کی وجہ سی کئی ووٹروں کا خیال ہے کہ امریکی خواب پاش پاش ہو رہا ہے۔
معیشت
بروکنگز انسٹیٹیوٹ نامی تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے ماہر ولیم گالسٹون کا کہنا ہے کہ ’امریکی عوام کے غصے اور مایوسی کی بنیادی وجہ گذشتہ 15 سال سے امریکی معیشت کی توسط اور مزدور طبقے کے حالات سدھارنے میں ناکامی رہی ہے۔‘
حالانکہ امریکہ اپنے معاشی بحران سے باہر نکل آیا ہے۔ اس کی پیداوار بھی اپنی ڈگر پر واپس آگئی ہے جبکہ بیروزگاری کا تناسب سنہ 2009 میں دس فیصد کم ہو کر 2015 میں پانچ فیصد تک رہ گیا ہے لیکن امریکیوں کو ابھی بھی لگتا ہے کہ ان کی جیبیں خالی ہیں۔

12

امریکہ کی معیشت بہتر ہونے کے باوجود گذشتہ 15 سالوں سے ایک عام آدمی کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔
امریکی اعداد و شمار کے بیورو کےمطابق سنہ 2014 میں ایک متوسط طبقے کے خاندن کی ماہانہ آمدنی 53657 ڈالر تھی، جبکہ سنہ 2007 میں 57357 ڈالر اور سنہ 1999 میں 57843 ڈالر تھی۔
ولیم گالسٹون کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کویہ بھی احساس ہے کہ زیادہ تر نوکریاں نچلے درجے کی ہیں اور مواقع بھی بہت کم ہیں۔‘
آپ کے بائیں جانب ارب پتی لوگ، بینک، اور وال سٹریٹ کے تاجر ہیں اور دائیں جانب وہ مہاجرین اور دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگ ہیں جو ہماری اور بین الاقوامی معیشت سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ایک ہی سیاسی سکے کے دو رخ ہیں۔
مہاجرین
امریکہ کی آبادیات تبدیل ہو رہی ہیں۔ سنہ 1965 سے اب تک امریکہ میں تقریباً پانچ کروڑ 90 لاکھ افراد ہجرت کر کے آ چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والوں کی بھی ہے۔
پیو ریسرچ کے مطابق 40 سال قبل امریکہ کی آبادی کا 84 فیصد غیر ہسپانوی سفید فام افراد پر مشتمل تھا۔ گذشتہ سال تک یہ تناسب کم ہو کر 62 فیصد رہ گیا۔ خیال ہے کہ یہ رجحان اس ہی طرح برقرار رہے گا اور آئندہ 2055 تک امریکہ کی آبادی کا نصف سے کچھ ہی کم فیصد سفید فام ہسپانوی افراد پر مشتمل ہوگا۔
پیو کے اندازے کے مطابق 2055 تک دیگر قومیتوں کے مقابلے میں ایشیائی لوگ امریکہ کی جانب زیادہ ہجرت کریں گے۔
نیکسٹ امریکا کے مصنف پال ٹیلر کا کہنا ہے کہ ’یہ عہد امریکہ کی آبادیات، نسل، ثقافت، مذہب اور نسلی تفریق میں تبدیلیوں کا عہد ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جہاں کچھ لوگ ان تبدیلیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، وہیں کچھ لوگ اس پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ کچھ عمر رسیدہ سفید فام ووٹر کہتے ہیں کہ یہ وہ ملک نہیں رہا جہاں وہ پلے بڑھے تھے۔ ان کو اپنے ملک میں کچھ اجنبی قبائل کی موجودگی کا احساس رہتا ہے۔‘
اس وقت امریکہ میں 11 لاکھ 30 ہزار افراد غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔
جنوبی کیلیفورنیا کی یونیورسٹی میں امیگریشن امور کے ماہر رو برٹو سورو کا کہنا ہے کہ مہاجرین اکثر غصے کا نشانہ بنتے ہیں۔
گذشتہ سال دسمبر میں کیلیفورنیا کے علاقے میں 14 لوگوں کی ہلاکت کے واقعےکا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’مہاجرین کی وجہ سے امریکہ میں مایوسی پائی جاتی ہے اور ان کو ملک میں زیادہ تر خرابیوں کی وجہ سمجھا جاتا ہے جن میں دہشت گردی، اور نوکریوں کی کمی شامل ہے۔
’ہم نے واضح طور پر دیکھا کہ کس طرح اس واقعے کے بعد ڈونلد ٹرمپ نے اپنی توپوں کا رخ میکسیکو سے آنے والے افراد سے ہٹا کر مسلمانوں کی جانب کردیا۔‘
حکومت
پیو ریسرچ کے مطابق جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ آیا وہ موجودہ حکومت پر بھروسہ کرتے ہیں یا نہیں تو 89 فیصد رپبلکن ووٹر اور 72 فیصد ڈیموکریٹک ووٹروں کا جواب ’ کبھی کبھی‘ یا ’کبھی نہیں‘ تھا۔
گیلپ سروے کے مطابق دس میں سے چھ امریکیوں کا خیال ہے کہ حکومت کے پاس بہت زیادہ طاقت ہے۔
ادارے کے مطابق گذشتہ دو برس سے امریکہ میں معاشی بدحالی، بے روزگاری اور مہاجرین کے مسئلے جیسے اہم مسائل کی سب سے بڑی وجہ حکومت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

13

امیریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کی ماہر کارلین بومین کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس میں منتخب شدہ اراکین کی کمزور حیثیت سے پیدا ہونے والا سیاسی تعطل بھی 20 سے 30 فیصد امریکی ووٹروں میں ناراضی کی ایک وجہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ سیاست دانوں کو مسائل پر توجہ دینے کی بجائے آپس میں لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ 70 کی دہائی کے بعد سے کانگریس کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اسی وجہ سے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ لوگ حکومت اور اپنے درمیان فاصلہ محسوس کرتے ہیں اور اس سے خائف رہتے ہیں۔‘
ولیم گالسٹون کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور برنی سانڈرس کی طرف لوگوں کے رجحان کی ایک بڑی وجہ موجودہ حکومت کا ناکام ہوتا نظام بھی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’اب آپ کے دائیں جانب برلسکونی اور پوتن جیسے لوگ ہیں جنھیں ایک ’مضبوط شخصیت‘ کہا جا رہا ہے جو تمام مسائل کو حل کر لیں گے، جبکہ آپ کے بائیں جانب وہ ہیں جو ترقی کے منصوبوں کو تو مسترد کر دیتے ہیں اور انقلاب کی باتیں کرتے ہیں۔‘
ٹیڈ کروز جنھوں نے آئیووا میں رپبلکن نمائندے کی نشست جیت لی ہے، اسٹیبملشمنٹ کےخلاف بھی لڑ رہے ہیں۔
پیر کی رات انھوں نے کہا کہ ’آج کی رات ہر اس امریکی کی فتح ہے جو واشنگٹن کے پیشہ ور سیاست دانوں سے مایوس ہیں کیونکہ ہم نے دیکھا کہ دونوں بڑی پارٹیوں نے عوام کےمسائل سننے سے انکار کر دیا ہے اور جو اکثر ان سے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘
دنیا میں امریکا کا مقام
پیو ریسرچ کے مطابق امریکہ کو سپر پاور سمجھا جاتا تھا لیکن وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ امریکہ ’دنیا کے تمام ممالک میں اول نمبر پر ہے‘ تعداد میں سنہ 2012 میں 38 فیصد سے کم ہوکر سنہ 2014 میں 28 فیصد رہ گئے ہیں۔
سنہ 2013 کے سروے کے مطابق 70 فیصد امریکیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں اپنی ساکھ کھوتا جا رہا ہے۔
رابرٹو سورو کا کہنا ہے کہ ’وہ ملک جو دنیا میں سب سے آگے ہوا کرتا تھا، گذشتہ 15 سالوں کے دوران اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر سکا۔ ملک میں نائن الیون کے بعد سے ایک جنگ کی کیفیت کا احساس ہے اور چیزیں عوام کی توقعات کےمطابق نہیں ہو رہیں۔‘
چین کی ترقی، طالبان کو شکست دینے میں ناکامی اور نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں سست روی نے عوام کی مایوسی اور گھبراہٹ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

10

نیویارک ٹائمز اور سی بی ایس کے سروے کے مطابق امریکی نائن الیون کے بعد سے کسی بھی وقت دہشت گرد حملہ ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں۔
گالسٹون کہتے ہیں کہ سان برنارڈینو کی فائرنگ پر امریکی ردعمل پیرس حملوں کے بعد فرانسیسی ردعمل سے مختلف تھا۔
’وہاں پر احتجاج کرنے والے حکومت کے ساتھ تھے جبکہ امریکہ میں حکومت مخالف ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ امریکی حکومت اپنے ملک اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنےمیں ناکام رہی ہے۔‘
سیاسی تفریق
امریکہ کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں ڈیموکریٹس اور رپبلکنز میں اس پہلے کبھی اتنی تفریق نہیں دیکھی گئی۔
پیو ریسرچ کے مطابق ایک عام رپبلکن اپنے معاشرتی، معاشی، اور سیاسی خیالات میں ڈیموکریٹس کے مقابلے میں سنہ 1994 میں 70 فیصد سے بڑھ کر رواں سال 94 فیصد مزید قدامت پسند ہوگیا ہے جبکہ ایک عام ڈیموکریٹ اپنے خیالات میں رپبلکن کے مقابلے سنہ 1994 میں 64 فیصد سے بڑھ کر اس سال 92 فیصد مزید آزاد خیال ہوگیا ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکیوں میں مخالف پارٹیوں کے بارے میں منفی خیالات پہلے کے مقابلے میں دگنے ہوگئے ہیں، اور ناپسندیدگی کا جزبہ بہت گہرا ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی قریبی رشتہ دار مخالف پارٹی کے حامیوں میں شادی کر لے تو اس پر ناراضی کا اظہار کیا جاتاہے۔
اس تفریق کی وجہ سے ملک میں مہاجرین کی آمد، صحت عامہ اور اسلحہ پر پابندی جیسے اہم مسائل کے حل کے لیے کسی متفقہ حل کی جانب آنا مشکل ہوگیا ہے۔
پال ٹیلر کا کہنا ہے کہ’’امریکہ میں اس بڑھتی ہوئی تفریق کے باوجود درمیان میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو حقیقت پسند ہے۔ انھوں نے امید کا دامن مکمل طور پر نہیں چھوڑا ہے اور وہ واشنگٹن کو جامد نہیں دیکھنا چاہتے لیکن وہ بھی ان حالات سے تنگ آ چکے ہیں۔‘
یہ گروپ زیادہ تر نوجوان لوگوں پر مشتمل ہے جو اپنے اوپر کسی پارٹی کا نشان نہیں لگانا چاہتے۔
پال کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ لوگ ووٹ ڈالتے ہیں تو اگلے انتخابات میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘
 

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …