منگل , 21 مئی 2019

ترک صدر اردگان نے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے

justice-and-development-party

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)تمام مشکلیں ایک ٹویٹ سے شروع ہوئیں: میں دیاربکر میں اپنے گھر میں ہوں اور سکیورٹی فورسز کے جوان میری گرفتاری کا حکمنامہ لیکر میرے درواے کے باہر کھڑے ہیں۔ یہ ٹویٹ ترکی کی ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کے سربراہ صلاح الدین دمیرتاش کا ہے۔
ترکی ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی ترکی کی ایسی پارٹی ہے جو واقعی معنی میں ترک کردوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ پارٹی کی قیادت میں خواتین کی موجودگی اس پارٹی کو دیگر پارٹیوں سے ممتاز بناتی ہے۔ یہ وہی پارٹی ہے جس کے ذریعے ترکی کے کردوں کو سیاسی میدان میں اترنے کا موقع ملا۔
صلاح الدین دمیرتاش کے علاوہ اس پارٹی کے دیگر دس افراد کو بھی چند دنوں پہلے گرفتار کیا گیا۔ دمیرتاش کی گرفتاری کے ساتھ ترکی میں ٹویٹر اور واٹس ایپ کو بلاک کردیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ دمیرتاش نے عدالت میں جج کو خطاب کرتے ہوئے کہا: جمہوریت کے لیے ہماری کوششیں ضرور رنگ لائیں گی، اور اردوغان کا یہ فرسودہ نظام بھی تبدیل ہوکر رہےگا، میں کوئی التجا نہیں کرونگا اور مجھے آپ سے کوئی توقع بھی نہیں ہے۔
اسی طرح احمد قلیچدار اوغلو نے بھی کہا کہ ترکی اس وقت ایسے ٹرک کی مانند ہے کہ جو ڈھلان کی جانب بڑھ رہا اور اس کا بریک فیل ہوچکا ہے۔ قوم و ملت کے ماہرین اور ایلیٹ کی زبانیں بند کرکے ملک میں امن و امان کی فضا کو بحال نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی دیکھیں

سعودیہ اور قطر کے مابین لفظی جنگ کا ایک بار پھر آغاز

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک)قطر کی وزارت خارجہ کی ترجمان نےسعودی عرب کے خارجہ امور کے وزیر …