اتوار , 28 فروری 2021

’میں نے خدا سے ایک سودا کیا ہے‘

6

مارک ريگو جنوبی بھارتی شہر بنگلور کے مے خانوں کے معروف کوئز ماسٹر ہیں۔ وہ عام طور پر پارٹیوں میں ہاتھ میں جام اٹھائے اور کبھی کبھی تو پوری بوتل اٹھائے نظر آتے ہیں۔
وہ پارٹیوں کی جان ہوتے ہیں اور جشن کے سرپرستوں کے ساتھ رقص کرتے اور ان کے سوالوں کا پر مزاح جواب دیتے نظر آتے ہیں۔
لیکن سات سال قبل ریگو کو پتہ چلا کہ انھیں کینسر ہے اور اس نے ان کی زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ’خدا سے ایک سودا کیا ہے۔‘
اب وہ لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں لانے کی خاطر غریب اور یتیم بچوں اور کینسر کے مریضوں کے لیے کام کرنے والے بہت سے خیراتی اداروں کے لیے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔

5

مسٹر ریگو کے مطابق ’اپنی اضافی رقم خیرات میں دینا کوئی صدقہ نہیں ہے۔‘ وہ اپنا بیشتر وقت تمل ناڈو اور کرناٹک کی سرحد پر موجود ہوسر کے جیورتھنی فاؤنڈیشن میں گزارتے ہیں۔ یہ ادارہ غریب بچوں کے لیے کام کرتا ہے۔
جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ برطانوی زمانے کے فارم ہاؤس میں قائم ادارے میں رہنے والے بچے میدان میں کھیلنے کودنے کے لیے نکل آئے ہیں۔
یہ بچے عام طور سے غریب گھروں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں بعض یتیم بھی ہیں جن کی کفالت ان کے والدین یا رشتے دار نہیں کر سکتے۔
ان میں سے بعض بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے ان کے والدین نے چھوڑ دیا تھا۔ جیسے ہی بچے ريگو کو دیکھتے ہیں وہ انھیں گانا سنانے کی فرمائش کرتے ہیں اور وہ انھیں فورا ہی پورا کردیتے ہیں۔

4

اس خیراتی ادارے کی منتظمہ مینا پروچانسکی بتاتی ہیں کہ ’ریگو بچوں میں بہت مقبول ہیں۔ بہت سے بچے بڑھ کر ان کے جیسا بننا چاہتے ہیں۔ اور بہت سے چھوٹے بچے ان کے بال کے انوکھے طرز کو اپنانا چاہتے ہیں۔‘
وہ بچوں سے بہت گھلے ملے ہیں اور وہ بچو‎ں سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر انھوں نے آنے والے امتحانات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو وہ ان کا بال اپنی طرح کا بنا دیں گے۔
جب سب بچے ان کے گرد جانوروں کے بارے میں یا فطرت کے بارے میں کوئی گیت سننے کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں تو ان کا جوش قابل دید ہوتا ہے اور ان کے گیت پر جھومنے والے بچوں کے چہرے خوشی سے چک اٹھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

برطانوی پارلیمنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے گی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش …