ہفتہ , 6 مارچ 2021

یونان میں فلسطین کے حق میں قراردادمنظور

یونانی پارلیمنٹ میں فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی ہے، قرار داد کی منظوری کے وقت پارلیمنٹ میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی موجود تھے۔

AS6

یونان کی پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوا تو پارلیمانی سپیکر نیکوس ووٹسیس نے قرارداد کا متن پڑھا اور سوا کیا کہ اس قرارداد کے حق میں کون کون سا قانون دان ہے جس کے بعد ایوا نمیں موجود اکثریتی قانون دانوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیئے۔ قرارداد پیش ہونے سے قبل یونانی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ نے فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے سے متعلق تحریک کا آغاز کیا تھا۔ اس تحریک میں یونان کی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ فلسطین کو 1967 میں منظور ہونے والے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق آزاد ریاست تسلیم کیا جائے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس کو ریاست کاسربراہ اور ریاستی دارالحکومت یروشلم تسلیم ہونا چاہیئے۔

یونان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کی تحریک کے بعد فلسطینی صدر محومود عباس کو بھی یونان مدعو کیا گیا تاہم اس دعوت کے پیش نظر ان کا یہ دورہ ررواں ہفتے اتوار سے شروع ہوا جس میں انہوں نے سب سے پہلے یونانی صدر ٹسی پریس سے ملاقات کی جس میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضع رہے کہ یونان مغربی ممالک میں پہلا ملک نہیں جو فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر رہی ہے جبکہ اس سے قبل یورپی ممالک میں برطانیہ، فرانس، اسپین ، آئیر لینڈ، بیلجیئم اور پرتگال فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …