منگل , 9 مارچ 2021

سعودی عرب کے پاس نہ تو ہمت ہے اور نہ صلاحیت: ایران

17

ایران کے اہم رہنماؤں نے شام میں اپنے آپ کو تنظیم دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے فوجی بھیجے جانے کی پیشکش پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
چند دنوں قبل سعودی عرب کی وزارت دفاع کے مشیر بریگیڈیئر جنرل احمد بن حسن الاسیری نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب شام میں زمینی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
الاسیری نے کہا: ’ہمیں علم ہے کہ صرف فضائی حملے کافی نہیں ہیں اور زمینی کارروائی کی ضرورت ہے۔ اور زمین پر بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے دونوں کی ضرورت ہے۔‘
سعودی عرب کی جانب سے ہونے والے اعلان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف محمد علی جعفری نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس نہ تو ہمت ہے اور نہ صلاحیت کہ وہ شام میں اپنی فوج بھیج سکے کیونکہ اس کی فوج ’روایتی قسم‘ کی ہے۔
جعفر علی نے مزید کہا کہ ’اگر سعودی عرب نے اپنی فوج شام بھیجی تو انھیں منھ کی کھانی پڑے گی۔‘

18

ایک دوسرے کمانڈر حسین سلامی نے ایرانی چینل ٹو سے بات کرتے ہوئے کہا ’سعودی عرب کی جانب سے اپنے فوجی شام بھیجنے کی پیشکش کسی سیاسی مذاق سے کم نہیں۔ مسلم ممالک میں سعودی عرب کی جانب سے اپنی پالیسی، حکمت عملی، مالی تعاون اور اشتعال انگیزی کے ذریعے بدنظمی پھیلانے کی بھلے ہی ایک طویل تاریخ رہی ہو لیکن عسکری طور پر کسی جنگ کا رخ موڑنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے۔‘
دریں اثنا ایرانی اعلیٰ عدالت اکسپیڈیئنسی کونسل کے ترجمان محسن رضائی جو کہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ بھی ہیں نے سعودی عرب کی فوج کی شام کی جنگ میں شمولیت پر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے میں بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
محسن نے انسٹاگرام پر اپنے صفحے پر کہا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی حکومت جو کہ بے تکے کام کے لیے معروف ہے اور اگر وہ یہ قدم اٹھاتی ہے تو اس سے سعودی عرب سمیت پورا خطہ جل اٹھے گا۔‘

19

خیال رہے کہ ایران، روس اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ شام میں بشار الاسد حکومت کی حمایت میں باغیوں سے برسرپیکار ہے اور حال میں شام کی حکومت نے حلب پر قابض باغیوں کے خلاف اہم پیش رفت کی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں حزب اللہ کے جنگجو زمین پر موجود ہیں اور ایران کا کہنا ہے کہ اس فوجی اہلکار وہاں شیعہ کی مقدس زیارت گاہوں کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔
دوسری جانب ترکی، سعودی عرب اور قطر اعتدال پسند سنیوں کی اکثریت والے حزب اختلاف کی حمایت میں ہیں اور ان کے ساتھ امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کھڑے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …