پیر , 8 مارچ 2021

’سنگین کے زیادہ تر علاقے پر طالبان کا ایک بار پھر قبضہ‘

20

جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند کے اہم شہر سنگین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک بار پھر سے طالبان کے قبضے میں جانے کے دہانے پر ہے۔
یہ بات افغان فوج کے ایک کمانڈر نے بتائی ہے۔ انھوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ دراصل اس اہم شہر کے زیادہ تر حصے پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے۔
اور انھوں نے متنبہ کیا کہ جو چند علاقے بچے ہوئے ہیں ان کو بھی شدید خطرہ درپیش ہے۔
افغانستان میں برطانیہ کی لڑائی کے مشن پر مامور تقریباً ایک چوتھائی فوجی سنگین کو بچانے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
دسمبر میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ یہ ضلع پوری طرح سے طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے اس کے بعد افغان حکومت نے کمک بھیجی تھی۔
طالبان کے جاری حملوں کے باوجود حکومت کے اہلکاروں نے بار بار کہا ہے کہ سنگین محفوظ ہے۔ لیکن اس کمانڈر نے تصویر کا بالکل دوسرا رخ پیش کیا ہے۔
سیٹلائٹ فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ دنوں حکومت کے باقی ماندہ ٹھکانوں پر طالبان کا بار بار حملہ ہوا ہے جس میں متعدد فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

21

انھوں نے بتایا کہ تین دن قبل جب طالبان نے ’سحرا یک‘ نامی فوجی ٹھکانے پر حملہ کیا تو اس میں آٹھ افغان فوجی ہلاک ہوئے جبکہ نو فوجیوں کو وہ زندہ پکڑ کر لے گئے۔
ان کے مطابق تمام اسلحے بارود پر انھوں نے قبضہ کر لیا جن میں بکتر بند گاڑی بھی شامل تھی۔
انھوں نے کہا: ’دو دوسرے کیمپ پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اگر انھیں ضروری امداد نہیں پہنچتی ہے تو خدا نہ خواستہ ان کا بھی وہی انجام ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ کئی دنوں سے کوئی مدد نہیں پہنچی ہے اور راشن بھی ختم ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ چوتھا دن ہے کہ ہمارے ساتھ ایک لاش ہے اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران چار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اور دس دنوں سے ہم صرف سوکھی روٹیاں کھا رہے ہیں اور وہ بھی مقامی پولیس سے مانگ کر۔‘

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …