جمعرات , 4 مارچ 2021

پی آئی اے کے ‘لاپتہ’ملازمین کی 6 دن بعد واپسی

 

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے 4 لاپتہ اراکین کو نامعلوم افراد نے شہر کے مختلف حصوں میں چھوڑ دیا.

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما اور پیپلز یونٹی (پی یو ) کے صدر ہدایت اللہ خان، پی یو کے نائب صدر ضمیر چانڈیو، سیف اللہ اور منصور ڈھلوان 2 فروری کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب قومی ایئر لائن کی مجوزہ نجکاری کے خلاف احتجاج کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے.

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما ہدایت اللہ نے  کہا کہ انہیں 6 روز تک آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نامعلوم مقام پر رکھا گیا، ‘ہم نہیں جانتے کہ وہ کون سی ایجنسی کے لوگ تھے.’

انھوں نے بتایا کہ اس دوران اُن کا گھروں سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی اُن پر کسی قسم کا جسمانی تشدد کیا گیا۔

جے اے سی کے ترجمان نصر اللہ خان نے تصدیق کی کہ ملازمین کو رہا کردیا گیا ہے لیکن انھوں نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ انھیں کس نے حراست میں لیا تھا.

اس سے قبل انھوں نے بتایا تھا کہ لاپتہ ملازمین کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جاچکی ہے، تاہم اس میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا.

یاد رہے کہ ملازمین کے ‘لاپتہ’ ہونے کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کیپٹن سہیل بلوچ نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ پی آئی اے کے ملازمین اپنے ساتھیوں کی بازیابی کے لیے پیر کو اولڈ ٹرمینل پر پی آئی اے ہیڈ آفس سے جناح ٹرمینل تک ریلی نکالیں گے.

تاہم ملازمین کی واپسی کے بعد جے اے سی ترجمان نصر اللہ خان نے  بتایا کہ اب یہ مارچ منسوخ کردیا گیا ہے، لیکن پی آئی اے ملازمین مطالبات منظور نہ ہونے تک ملک کے تمام بڑے ایئرپورٹس کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کے باعث گذشتہ 6 روز سے بند فلائٹ سروس اتوار کو بحال ہونا شروع ہوئی.

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوا ہے اور بعض ملازمین کام پر دوبارہ آنا چاہتے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ دو سے تین روز میں سعودی عرب سے تمام عمرہ زائرین کو واپس لایا جائے گا.

پی آئی اے انجینئرز نے انتظامیہ کو خبردار کردیا
دوسری جانب پی آئی اے ملازمین نے طیاروں کی پرواز کے سلسلے میں مناسب سیفٹی پروٹوکول پر عملدرآمد نہ کیے جانے کے حوالے سے انتظامیہ کو خبردار کردیا.

پی آئی اے انجینیئرز نے انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ طیارے کے مینٹی نینس پروٹوکول کو یقینی بنائے بغیر فلائٹ آپریشن کا آغاز سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے.

دی سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینیئرز آف پاکستان نے کہا، ‘پی آئی اے انتظامیہ انجینیئرز کو آئی سی اے او (ICAO) اور پی سی اے اے (PCAA) کے قواعد و ضوابط کے مطابق لازمی شرائط کی تکمیل کے بغیر طیارے اڑانے پر مجبور کر رہی ہے، جس سے مسافروں اور خود طیارے کی سیفٹی خطرے میں پڑ گئی ہے.

ایک پی آئی اے انجینیئر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو آئی سی اے او (ICAO) اور دیگر ریگولیٹری باڈیز کے سامنے اٹھائیں گے۔

اس سلسلے میں جب ڈان نے پی آئی اے لاہور کے ترجمان اطہر اعوان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ طیارے کو پرواز کے قابل قرار دینے کے لیے کچھ انجینیئرز سمیت گراؤنڈ اسٹاف ضرروی ہوتا ہے اور پی آئی اے مسافروں اور عملے کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کا رِسک نہیں لے سکتی۔

پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری اور احتجاج
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں گذشتہ ماہ 21 جنوری کو 6 بل پیش ہوئے تھے، جس میں پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل بھی شامل تھا، اس بل کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کارپوریشن کو پاکستان انٹرنیشل ایئر لائن کمپنی لمیٹڈ میں تبدیل کیا جائے گا.

یہ بل سامنے آتے ہی ملک بھر میں پی آئی اے کے ملازمین کی تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا، جس سے پی آئی اے کے امور متاثر ہونے لگے تھے.

منگل 2 فروری کی صبح فضائی آپریشن معطل کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت نے 1952 کا لازمی سروسز ایکٹ نافذ کر دیا ، جس کے تحت تمام یونینز تحلیل ہو گئیں، جبکہ اب ہڑتال یا احتجاج کرنے والے ملازمین ملازمت سے فارغ کر دیئے جائیں گے.

مذکورہ ایکٹ کے نفاذ کے بعد ملازمین مزید مشتعل ہو گئے اور مزدور تنظیموں کے اتحاد نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ریلی نکالنے کی کوشش کی، لیکن رینجرز اور پولیس کی فائرنگ، آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کے دوران 2 ملازمین ہلاک ہوگئے.

 

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …