ہفتہ , 6 مارچ 2021

مالی مشکلات انسانی جسم میں درد کی وجہ بھی بن سکتی ہیں

نیویارک: امریکی ماہرین کےمطابق غیریقینی معاشی صورتحال اور مالی مشکلات کسی بھی انسان میں کئی طرح کے درد کی وجہ بن سکتی ہے۔

14

امریکا کی یونیورسٹی آف کولمبیا اور یونیورسٹی آف ورجینیا سے منسلک ماہرین کی جانب سے مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2008 میں جب امریکا سمیت دنیا بھر میں شدید مندی کا رجحان تھا، صرف ایک سال میں امریکیوں نے 300 ارب ڈالر کی درد کش ادویات فروخت ہوئیں جو کہ 2007 کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تھا۔ امریکا میں کئے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2006 سے 2012 کے درمیان صرف امریکا میں درد کش ادویات کی فروخت میں 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اس کے علاوہ امریکا میں کئے گئے ایک سروے کے دوران 33 ہزار 720 خاندانوں کی معاشی صورت حال اور ان میں دردکش دواؤں کے استعمال کے درمیان تعلق کو اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا گیا۔ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لوگوں میں اپنی آمدنی کے بارے میں فکرمندی بڑھنے سے ان میں درد کش دواؤں کا استعمال بھی بڑھ گیا۔ مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لوگ اپنے اطراف کی مالی پریشانیاں دیکھ کر بھی متاثر ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید مالی مشکلات کے شکار افراد کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے اور وہ درست فیصلہ نہیں کرپاتے۔ ڈاکٹروں کے مطابق معاشی مسائل انسان کے دماغ میں موجود ایک مقام ایمگڈالا کو متاثر کرتے ہیں اور وہ جسم کے مختلف حصوں میں تکلیف محسوس کرنے لگتا ہے خواہ وہ کسی بھی نسل اور قومیت سے تعلق رکھتا ہو۔اس رپورٹ کے بعد ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر ادارے اور کمپنیاں ترقی کرنا چاہتی ہیں تو وہ اپنے ملازمین کی مالی مشکلات کا جائزہ لیں کیونکہ مالی آسودگی ان کے ملازمین کی قوتِ فیصلہ کو بھی بڑھاتی ہے جس سے ادارے ترقی کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بیماری میں حتیٰ الامکان دوا سے پرہیز کیجئے!

اسلامی متون میں بکثرت ایسی احادیث اور روایات موجود ہیں جن میں یہ ہدایت کی …