پیر , 8 مارچ 2021

’نومبر 08 سے پہلے بھی دو بار ممبئي پر حملے کی کوشش ہوئی‘

5

بھارت کے شہر ممبئی پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں امریکہ میں گرفتار امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے پہلی بار ایک بھارتی عدالت کو بتایا ہے کہ 26 نومبر سنہ 2008 سے قبل بھی ممبئی پر حملے کی دو کوششیں ہوئی تھیں۔
انھوں نے ممبئی پر ہونے والے حملے کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران امریکی جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے یہ باتیں کہیں۔
ان کا بیان صبح سات بجے شروع ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ وہ لشکر طیبہ کے ’سچے ماننے والے‘ تھے اور انھوں نے حملے سے قبل آٹھ بار بھارت کا دورہ کیا تھا اور پھر حملے کے بعد ایک بار بھارت گئے تھے۔

6

انھوں نے بتایا کہ وہ حافظ سعید سے ’متاثر‘ تھے اور انھوں نے سنہ 2002 میں لشکر میں شمولیت اختیار کی۔
ہیڈلی کے والد کا نام داود گیلانی ہے اور ان کی والدہ ایک امریکی خاتون ہیں۔ امریکہ کا استغاثہ کا کہنا ہے انھوں نے اپنا نام ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اس لیے رکھا تھا کہ بھارت میں اپنے آپ کو امریکی بنا کر پیش کر سکیں جس کا نہ تو پاکستان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ مسلمان ہے۔
ہیڈلی نے مبینہ طور پر امریکی استغاثہ کے وکلا کو بتایا کہ وہ سنہ 2002 سے لشکر طیبہ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
انھوں امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سنہ 2009 میں شکاگو سے فلاڈیلفیا جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔
ممبئی میں نومبر 2008 میں ہونے والے حملے ساٹھ گھنٹے تک چلتے رہے تھے۔ ریلوے سٹیشن، ایک فائیو سٹار ہوٹل اور یہودیوں کے کلچرل سینٹر پر کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائی میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں میں ملوث نو مسلح افراد بھی مار گئے تھے۔
ان حملوں میں واحد پکڑا جانے والے پاکستانی اجمل قصاب کو گذشتہ سال نومبر میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔
ہیڈلی کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے بتایا کہ ہیڈلی لشکر کا کام حافظ سعید کی ہدایات پر کرتے تھے۔

7

ہیڈلی نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی ویزا حاصل کرنے کے لیے انھوں نے غلط معلومات فراہم کی تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

برطانوی پارلیمنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے گی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش …