جمعرات , 25 فروری 2021

خیبر پختونحوا: محکمہ صحت میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ

12

پاکستان کی صوبے خیبرپختونخوا کی حکومت نے محکمہ صحت میں لازمی سروسز ایکٹ کونافذ کردیا ہے جس کے تحت اب ہسپتالوں میں ہڑتال کرنے والے سٹاف یا ڈیوٹی نہ دینے والے ملازمین کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔
اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں ملازمین کو نوکری سے بھی برخاست کیا جاسکتا ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا کے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے پر مشتمل تنظیم ہیلتھ ایمپلائز کوارڈنیشن کونسل نے صوبائی حکومت کی طرف سے نافذ کردہ لازمی سروسز ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
صوبائی وزیر صحت شہرام خان ترکئی نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اڑھائی برس تک محکمہ صحت کے ملازمین کی ہڑتالوں کے جواب میں نہ صرف تواتر سے ان کے ساتھ مذاکرات کیے بلکہ مریضوں کے وسیع تر مفاد کی خاطران کے تمام جائز مطالبات کو من وعن تسلیم کیا تاکہ کسی بھی ملازم کو نقصان نہ پہنچے۔
انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور قانون کے خلاف مٹھی بھر ملازمین عدالت بھی گئے مگر مجاز عدالت نے حکومتی ایکٹ کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس ایکٹ میں شامل ساری شقوں پر عملدرآمد کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
اس قانون کے خلاف کل پشاور کے ہسپیتالوںمیں ہڑتال کی جائے گی جبکہ آئندہ چند دنوں میں احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔
ڈاکٹر عالمگیر خان چیئرمین ہیلتھ ایمپلائزکوارڈنیشن کونسل
وزیر صحت نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کے تمام ملازمین کے مطالبات کو پہلے پورا کیا پھراس کے بعد محکمہ صحت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کیا لیکن اس کے بعد اگر کوئی بھی ملازم قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہڑتال کرے گا تو اس کو ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔
شہرام خان ترکئی نے کہا کہ جو ملازمین ہیلتھ ریفامز ایکٹ کو نہیں مانتے انھیں ملازمتوں سے استعفی دے دینا چاہیے کیونکہ ان کے جانے سے نہ تو حکومت کو کوئی فرق پڑتا ہے نہ عوام کو کسی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔
صوبائی وزیر نے پشاور کے تینوں بڑے ہسپتالوں کے ملازمین کو یقین دلایا کہ جس طرح انھوں نے ماضی میں ان کے وکیل کی حیثیت سے ان کے جائز مطالبات وزیراعلیٰ سے منوائے تھے آئندہ بھی ملازمین کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے وہ وزیراعلیٰ سے ملتے رہیں گے اور اس میں کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم دوسری طرف خیبر پختونخوا کے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے پر مشتمل تنظیم ہیلتھ ایمپلائز کوارڈنیشن کونسل نے صوبائی حکومت کی طرف سے نافذ کردہ لازمی سروسز ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ’
تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر عالمگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو اس قانون کے خلاف پشاور کے دو بڑے ہسپتالوں ایل ار ایچ اور کے ٹی ایچ میں ہڑتال کی جائے گی جبکہ آئندہ چند دنوں میں احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ جب تک ان کے جائز مطالبات پورے نہیں کیے جاتے اس وقت تک ہسپتالوں میں ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …