اتوار , 28 فروری 2021

اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی شراکت ؛ پاکستان میں ہمہ گیر مالیاتی رسائی اقدام کا افتتاح

کراچی: بینک دولت پاکستان نے عالمی بینک اور اقوام متحدہ کی شراکت سے ہمہ گیر مالیاتی رسائی اقدام (یونیورسل فنانشل ایکسس انیشیٹو) کا افتتاح کردیا۔

18

قومی مالی شمولیت حکمت عملی (این ایف آئی ایس) کے تحت پاکستان میں ہمہ گیر مالی شمولیت کے حصول کیلیے سرکاری اور نجی شعبے کی شرکت کو یقینی بنانے کیلیے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں نیدرلینڈکی ملکہ اوراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی مشیر شمولیتی مالیت برائے ترقی (یواین ایس جی ایس اے) میکسیما، ورلڈبینک گروپ کے صدر ڈاکٹر جم یونگ کم، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اشرف محمود وتھرا نے شرکت کی۔
ملکہ میکسیما نے مالی شمولیت کی بہتری کیلیے پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالی شمولیت کے حوالے سے حال ہی میں اختیار کردہ قومی مالی شمولیت حکمت عملی کے ذریعے پاکستان کا عزم نئی سطح پر پہنچ گیا ہے، پاکستان نئی بلندیوں پر پرواز کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر حلقوں کی پرخلوص محنت کی بدولت پاکستان نے دنیا میں مالی شمولیت کی بے حد مضبوط بنیادیں قائم کردی ہیں، نئے ضوابط سے برانچ لیس بینکاری، بڑھتے ہوئے مائیکروفنانس شعبے، موثر نظام ادائیگی کی ترقی اور صارفین کی زیادہ تعمیری شناخت ممکن ہوئی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی ترقیاتی پالیسی کا ایجنڈا شمولیتی اقتصادی نمو پر مبنی ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔
انہوں نے مالی شمولیت کو شمولیت پر مبنی معاشی نمو کے حصول کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اپنے خیرمقدمی کلمات میں اسٹیٹ بینک کی کوششوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے گورنرایس بی پی اشرف محمود وتھرا نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے مالی خدمات تک رسائی 2008 کے 12 فیصد سے بڑھ کر 2015 میں 23 فیصد ہو چکی ہے، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور حکومت کے ماتحت ہمہ گیر مالی رسائی کے اقدام سے اس کی رفتار بڑھے گی اور یہ معاشرتی و معاشی صورتحال کی بہتری اور غربت کے خاتمے کا اہم محرک ثابت ہو گا۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد آفتاب منظور نے شعبہ بینکاری و خرد مالکاری کی جانب سے وعدہ کیا کہ این ایف آئی ایس کے تحت طے شدہ اہداف پورے کرنے اور عوام تک رسائی حاصل کرنے میں مکمل تعاون کیا جائیگا۔ پی بی اے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2020 تک آبادی کے 50 فیصد بالغ افراد بشمول 25 فیصد عورتوں کی ایم والٹ اکاؤنٹس تک رسائی بڑھائی جائیگی اور چھوٹے کاروبار تک دیگر مالی خدمات کی رسائی میںبھی اضافہ کیا جائیگا۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کارپوریٹ سماجی ذمے داری کے اقدامات کے تحت مالی آگہی اور خواندگی بڑھانے کیلیے شعبہ بینکاری اسٹیٹ بینک کا ساتھ دیگا۔ اختتامی کلمات میں ڈپٹی گورنر سعید احمد نے کہاکہ مالی شمولیت مالی استحکام کو بہتر بنانے میںمدد دے گی اور اس کے نتیجے میںملک میں غربت کم ہوگی۔ اس موقع پر وفاقی وزرا، سفارت کار، وفاقی و صوبائی سکریٹریز، ترقیاتی اداروں کے نمائندے، بینکوں کے سربراہان اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ قبل ازیں ڈچ ملکہ میکسیما کی گورنر اشرف محمود وتھرا سے ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں مالی شمولیت بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت نے تیل و گیس کی پیداوار کی ریئل ٹائم نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے شفافیت کے مطالبات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت …