ہفتہ , 6 مارچ 2021

ایران "پیٹرو ڈالر” سے دور ہو کر امریکہ کے ساتھ شطرنج کھیل رہا ہے

1825265

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنے تیل کا کاروبار ڈالروں کی بجائے یورو میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاشی تجزیہ کار شبیر رضوی نے کو بتایا کہ تہران امریکہ کے ساتھ بظاہر شطرنج کا ایک نازک کھیل کھیل رہا ہے۔

"ایران امریکہ اور دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ماضی قریب کے تعلقات کی نسبت زیادہ قابل قبول بنانے کی سعی کر رہا ہے۔ تاہم ایران ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکہ باقیوں کی نسبت اس کے لیے زیادہ قوی ثابت نہ ہو۔ یہ واقعی ایک ایسا شطرنج کا کھیل ہے جو ایرانی امریکیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں” لندن میں موجود انٹرنیشنل ڈائیالاگ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر نے کہا۔

ایران نے جن کمنیوں کے ساتھ تیل کے سودے یورو میں کیے ہیں ان میں فرانسیسی توتال، روسی لوک آئیل اور ہسپانیہ کی گیسپا شامل ہیں، ریاست کی ملکیت نیشنل ایرانین آئل کمپنی میں کام کرنے والے ایک گمنام ذریعے نے بتایا۔

 

ایران کے فیصلے میں پوشیدہ منطق سادہ ہے: اگر تہران پیٹرو ڈالروں سے دور جاتا ہے تو امریکہ کا اس کے تیل کی منڈی پر قابو کم ہوگا۔ اس وقت ڈالر کو ہی دنیا میں کسی بین الاقوامی قابل فروخت شے بالخصوص تیل کے لین دین میں زرمبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

"درحقیقت یہ واحد وجہ ہے کہ ڈالر اور امریکی معیشت مستحکم ہیں” تجزیہ کار موصوف نے کہا۔

تاہم آخری پانچ برسوں میں ڈالروں کی صورت میں عالمی لین دین بہت حد تک کم ہو چکا ہے۔ ” یہ 90% ہوتا تھا، اب یہ 60% ہے” رضوی بتاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بقول تجزیہ نگار کے ڈالر کی "چمک دمک” ماند پڑ رہی ہے۔

رضوی نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ مغرب کی اقتصادی اشرافیہ کو ” پیٹرو ڈالر کا نظام” درکار ہے اور وہ اس سلسلے کو برقرار رکھنے کی خاطر آخری حربہ یعنی فوجی کارروائی تک کا استعمال کرنے کو تیار ہیں۔ تہران اپنے فیصلے کے نتائج سے اچھی طرح آگاہ ہے چنانچہ یہ امریکہ کے ساتھ "شطرنج کا نازک کھیل” کھیل رہا ہے۔

"صدام حسین نے تیل یورو کے عوض فروخت کرنا شروع کیا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ 2001 کے بعد عراق کے ساتھ کیا ہوا تھا”۔

لیبیا کے مرحوم رہنما معمّر قدافی کا بھی یہی انجام ہوا جنہیں نیٹو کی سربراہی میں ان کے ملک پر حملہ کیے جانے کے بعد پھیلنے والی ابتری کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ قدافی بہت زیادہ حامی تھے کہ ایک نئی کرنسی طلائی دینار متعارف کروائیں تاکہ ڈالر اور یورو کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ” امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پہلے لیبیا پر بمباری کرکے اسے یکسر بدل ڈالا اور پھر وہاں حکومت بدلوا دی” تجزیہ کار نے کہا۔

تاہم رضوی نے زور دیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کے حملے کے امکانات بہت کم ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …