بدھ , 23 اکتوبر 2019

امریکی سینٹ کا بل، مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہے:حسن روحانی

hassan-rouhani1

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے دن ایرانی پارلیمنٹ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہرگز مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں کسی بھی وعدہ خلافی، تاخیر اور خلاف ورزی پر ٹھوس اقدامات کرے گا۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے دن ایرانی پارلیمنٹ میں آئندہ سال کے بجٹ پیش کرتے وقت اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران ہرگز مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی نہیں کرے گا، انہوںنےتاکید کے ساتھ کہا کہ ایران فریق مقابل کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دے گا۔ کیونکہ امریکی سینٹ کا حالیہ بل ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
صدر روحانی نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو دوطرفہ کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے بین الاقوامی تعلقات کی توسیع کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں ہمیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
صدر مملکت نے امریکی سینٹ میں ایران مخالف بل کی منظوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی متعدد رپورٹوں کے مطابق، ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد کے آغاز سے اب تک اس کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور اس سلسلے میں اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے۔
حسن روحانی نے کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان ایک بین الاقوامی دستاویز ہے کہ جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تائید بھی کی ہے اور اس پر صحیح عملدرآمد کرنے سے سب کے لیے اچھے نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی صدر باراک اوباما ایران مخالف پابندیوں کی توسیع کو روکنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا پابند ہے، کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمے دار ایرانی کمیٹی رواں ہفتے کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل اور ایرانی پارلیمنٹ کے قوانین کے مطابق اس سلسلے میں مناسب فیصلے کرکے عوام کو مطلع کرے گی۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹ نے جمعرات کو ایران کے خلاف پابندیوں کی مدت میں مزید دس سال کی توسیع کر دی تھی۔ اس بل کے حق میں ننانوے ووٹ ڈالے گئے جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں پڑا۔ بل کی منظوری کے بعد اس قانون کے منصوبے کو صدر باراک اوباما کے دستخط کے لیے وہائٹ ہاوس ارسال کردیا گیا تا کہ یہ باقاعدہ قانون بن جائے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …