منگل , 2 مارچ 2021

2015 کی 10 حیرت انگیز ڈیوائسز

2015 مختلف گیجٹس یا ٹیکنالوجی کے لیے ایک اچھا سال ثابت ہوا۔ ہنسنے پر مجبور کرنے والی سانتا کی داڑھی سے لے کر ریموٹ ٹیلی پریسنز ٹیڈی بئیرز تک بہت کچھ ایسا تھا جو دیکھنے والوں کو چونکانے کے لیے کافی تھا۔

مگر چونکانے سے ہٹ کر اس سال بیشتر ڈیوائسز ایسی تھیں جن کو دیکھ کر شاندار یا زبردست کی بجائے ایک ہی لفظ ذہن میں آسکتا تھا اور وہ ہے حیرت انگیز۔

تو اس سال کے بہترین یا بدترین خیالات کو جنھیں 2015 کی عجیب و غریب ڈیوائسز اور ٹیکنالوجی قرار دیا جاسکتا ہے۔

اب ٹیبلیٹ کو کلائی پر باندھ کر استعمال کریں

فوٹو بشکریہ ریفیوس کففوٹو بشکریہ ریفیوس کف

آج کل اسمارٹ واچ کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے مگر کیا آپ اپنی کلائی پر کسی ٹیبلٹ کو چلانا پسند کریں گے؟ اگر ہاں تو ایسا بہت جلد ہونے والا ہے۔ جی ہاں ریفیوس کف نامی ایسا ٹیبلیٹ تیار کرلیا گیا ہے جسے کلائی پر باندھ کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔3.2 انچ اسکرین کا یہ ٹیبلیٹ صارفین کو کسی بھی اسمارٹ واچ کے مقابلے میں زیادہ فیچرز فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس کو بنانے والی کمپنی رفیوس لیبز کا کہنا ہے کہ اب گھڑیوں اور کلائی پر باندھے جانے والے کمیونیکٹر کا عہد ختم ہونے کے قریب ہے۔اسے آئی فون کے ساتھ کالز موصول کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

روبوٹ اسمارٹ فون

فوٹو بشکریہ روبوہانفوٹو بشکریہ روبوہان

اسمارٹ فونز تو آپ نے بہت دیکھیں ہوں گے مگر 2015 میں ایک روبوٹ ہی یہ کام کرنے لگا۔ روبو ہون نامی اسمارٹ فون جو نہ صرف آپ کو کالز، ایس ایم ایس اور دیگر سہولیات فراہم کرتا ہے بلکہ روبوٹ ہونے کے باعث بہت کچھ ایسا بھی کرسکتا ہے جو کسی اور فون پر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ ان گیجٹ کے مطابق جاپان میں تیار ہونے والا یہ اسمارٹ فون اپنی طرز کی منفرد ڈیوائس ہے جس میں ایک پراجیکٹر، اینیمیٹڈ ہاتھ پاﺅں، بولنا اور دیگر فیچرز موجود ہیں۔ اس کا وزن 390 گرام ہے اور سائز 19.5 سینٹی میٹر ہے یعنی جیب میں رکھنا ممکن نہیں جبکہ وائی فائی اور ایل ٹی ای جیسے فیچرز بھی موجود ہیں۔ اسی طرح دو چھوٹی چھوٹی 320×240 انچ کی اسکرینیں اس کے بیک پر موجود ہیں۔ یہ حیرت انگیز اسمارٹ فون اگر آپ خریدنا چاہتے ہیں تو کچھ انتظار کرنا ہوگا کیونکہ یہ 2016 کی پہلی ششماہی کے دوران فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

وائی فائی سے دیواروں کے آر پار دیکھنا

فوٹو بشکریہ ایم آئی ٹیفوٹو بشکریہ ایم آئی ٹی

کیا آپ دیواروں کے پار دیکھ سکتے ہیں ؟ اگر آپ کا جواب نہیں ہے تو جان لیں کہ ہونے والا ہے۔ امریکا کے میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس لیب کے محققین نے وائی فائی سگنلز کی مدد سے دیوار کی دوسری جانب لوگوں کی شناخت کو ممکن بنا دیا ہے۔ محققین نے ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو انسانی جسم سے ٹکرانے والے وائی فائی سگنلز کی مدد سے ان کی شناخت کو ممکن بناتا ہے۔آر ایف کیپچر نامی اس سافٹ ویئر میں وائرلیس سگنلز کو بھیجا جاتا ہے اور انسانی جسم کے مختلف حصوں سے ان کے ٹکراﺅ کا تجزیہ کرکے شناخت کی جاتی ہے۔محققین کے مطابق ابھی یہ عام لوگوں کو تو دستیاب نہیں ہوگی تاہم اسے تنہا بزرگ افراد کی دیکھ بھال اور اسمارٹ ہومز میں مختلف اشیاءکو کنٹرول کرنے کے حوالے سے استعمال کیا جاسکے گا۔

تصاویر سے لوگوں کے دلوں کے راز جاننا

فوٹو بشکریہ مائیکروسافٹفوٹو بشکریہ مائیکروسافٹ

کیا آپ کسی کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کتنا اداس، غصے، شرمندگی، خوف، خوشی، حیران اور دیگر جذبات کا شکار ہے ؟ مشکل ہے ناں مگر یہ کام اب مائیکروسافٹ نے اپنے ذمے لینے کا اعلان کیا ہے۔ مائیکروسافٹ نے کسی تصویر پر چہرے کے تاثرات سے اس کے جذبات کا تعین کرنے کے حوالے سے ایک ویب سائٹ میں دلچسپ ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ کمپنی نے خبردار بھی کیا ہے کہ ابھی یہ تجرباتی بنیادوں پر ہے اور اس میں ہمیشہ ہی درست نتائج سامنے نہیں آتے۔ جیسے کسی تصویر میں کوئی شخص اداس نظر آرہا ہوگا تو یہ نتیجہ بھی سامنے آسکتا ہے کہ وہ درحققیت اداس نہیں بلکہ کسی اور جذبے نے اس پر غلبہ پایا ہوا ہے۔ اگر آپ بھی جاننا چاہتے ہیں اپنے چہرے سے آپ کتنے اداس یا خوش نظر آتے ہیں تو مائیکروسافٹ کے پراجیکٹ آکسفورڈ کے پیج پر جاکر کوشش کرسکتے ہیں۔

خودکار تسمے لگانے والے جوتے

فوٹو بشکریہ نائیکیفوٹو بشکریہ نائیکی

اگر آپ کی پیدائش نوے کی دہائی کی ہے تو سائنس فکشن فلم بیک ٹو دی فیوچر تو ضرور یاد ہوگی جس کے ایک حصے میں ہیرو کو جب مستقبل میں لے جایا جاتا ہے تو وہاں اس کے پاس ایسے جوتے ہوتے ہیں جس کے تسمے خود بخود بند ہو جاتے تھے۔ 30 سال قبل یہ آئیڈیا شاید ایک خواب لگتا تھا تاہم 2015ء میں جوتے بنانے والی ایک کمپنی نائیکی نے اسے تعبیر کی صورت دے دی ہے۔ کھیلوں کے جوتے تیار کرنے والی کمپنی نائیکی نے ایسے جوتے تیار کیے ۔ یہ جوتے فی الحال کمرشل بنیادوں پر فروخت تو نہیں ہوں گے بلکہ اے 2016 میں کسی وقت عام لوگوں کے لیے پیش کیا جائے گا جب تک وہ اس ٹیکنالوجی کو دیکھ کر حیران ہوسکتے ہیں۔

اڑن گاڑی

فوٹو بشکریہ ٹیرافوگیافوٹو بشکریہ ٹیرافوگیا

کارٹون سیریز جیٹ سنز تو آپ نے شاید دیکھی ہو اس میں اڑنے والے گاڑیاں ہی ٹرانسپوٹ کا واحد ذریعہ ہوتی ہیں اور 2015 میں آخرکار یہ انتظار ختم ہو ہی گیا۔ امریکی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ایک اڑنے والی حیرت انگیز گاڑی کی آزمائشی پروازوں کی اجازت دی جسے ٹیرافوگیا نامی کمپنی نے تیار جو ایم آئی ٹی ایرو اسپیس انجنیئرز نے میساچوسٹس میں قائم کی اور وہ اندازوں سے بھی پہلے لوگوں کے استعمال میں آنے والی ہے۔ اس طرح یہ پہلی کمپنی بن جائے گی جو دنیا کو اڑن گاڑیاں فراہم کرے گی۔

سام سنگ ورچوئل رئیلٹی ہیڈ سیٹ

اے پی فوٹواے پی فوٹو

سام سنگ پہلی اسمارٹ فون کمپنی بنی جس نے اپنے موبائلز کے ساتھ استعمال ہونے والے ورچوئل رئیلٹی ہیڈ سیٹ پیش کیے۔ سام سنگ کی جانب سے اس ورچوئل رئیلٹی ہیڈ سیٹ کو بہت کم قیمت پر فروخت کے لیے پیش کیا گیا جو کہ اس کے کچھ خاص ماڈلز کے ساتھ ہی کام کرسکتا ہے۔ اس ہیڈ سیٹ کو فیس بک کی ایک کمپنی اکیولوس نے تیار کیا اور اس رئیلٹی ہیڈ سیٹ کے سستا ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کی اپنی اسکرین نہیں بلکہ صارفین کو اپنے اسمارٹ فون اس میں لگا کر ورچوئل رئیلٹی ڈسپلے کا مزہ لینا ہوگا۔ یہ ڈیوائس آپ کے فون کے ساتھ ورچوئل رئیلٹی اپلیکشنز کا تجربہ فراہم کرتی ہے اور یہ حیرت انگیز تجربہ ہوتا ہے جسے سراہا جانا چاہئے خاص طور پر گیمنگ کے شائقین کے لیے تو یہ کسی تحفے سے کم نہیں۔

زلزلے سے بچانے والا بیڈ

ویڈیو اسکرین شاٹویڈیو اسکرین شاٹ

اگر تو آپ رات کو بستر پر لیٹتے ہوئے غیر متوقع زلزلے کے باعث ملبے میں دب جانے کا ڈر دل میں رکھتے ہیں تو کیا آپ نرم و ملائم گدے میں زندہ دفن ہونا پسند کریں گے؟ اگر ہاں تو چینی موجد وانگ وینژی نے ایسا حیرت انگیز بیڈ تیار کیا ہے جسے زلزلہ پروف بستر کا نام دیا گیا ہے جو آپ کو گھر گر جانے کی صورت میں کئی گھنٹوں تک محفوظ رکھ سکے گا۔ جب بھی زلزلہ آئے گا تو اس بیڈ کے اندر موجود میکنزم اسپرنگ کو حرکت میں لے آئے گا اور آپ کو ایک نچلے چیمبر کی جانب دھکیل دے گا جو ایک مختصر مگر انتہائی مضبوط کمرہ ہے۔ وہاں آپ بیٹھ یا لیٹ کر امداد کا انتظار کرسکتے ہیں۔

کپڑوں کو خود صاف رکھنے والی انوکھی الماری

فوٹو بشکریہ ایل جیفوٹو بشکریہ ایل جی

اگر تو آپ کو کپڑے دھونے میں تکلیف ہوتی ہے تو اب یہ کوئی مسئلہ نہیں درحقیقت آپ کی الماری ہی یہ کام کرے گی۔ کورین کمپنی ایل جی نے ایسی نئی الماری 2015 میں متعارف کرائی جو کپڑوں کو سرف یا دیگر کیمیکلز کے بغیر ہی صاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خراب استری کو بھی درست کرسکتی ہے۔ مگر اس کو خریدنا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں کیونکہ اس کی قیمت 2 ہزار ڈالرز ہے۔ اس الماری میں ایل جی کا کلاتھ کیئر سسٹم نصب ہے جو کپڑوں کو پانی یا سرف کے بغیر بنانے کے لیے ٹرو اسٹیم ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔

ایپک اسمارٹ گلاسز

فوٹو بشکریہ وی ٹی ٹی ٹیکنیکل ریسرچ سینٹرفوٹو بشکریہ وی ٹی ٹی ٹیکنیکل ریسرچ سینٹر

اب بدنما اور بہت بڑے اسمارٹ گلاسز کا دور ختم ہوگیا کیونکہ ماہرین نے ایک عام چشمے جیسا مگر جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اسمارٹ چشمہ تیار کرلیا ہے۔ فن لینڈ کے ڈویلپرز نے کریڈٹ کارڈ جتنے پتلے ڈسپلے تیار کیا ہے جو ایک عام سائز کے چشمے کو اسمارٹ گلاس میں تبدیل کردیتا ہے۔ فن لینڈ کے وی ٹی ٹی ٹیکنیکل ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے اس ٹیکنالوجی تیار کیا ہے. یہ زبردست اسمارٹ گلاسز گوگل گلاس کے مقابلے میں زیادہ بہترین ہے۔ اس کو تیار کرنے والے ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ ہم نے ایسی پتلی اسمارٹ گلاس ڈیوائس تیار کی ہے جسے کسی بھی عام چشمے میں نصب کیا جاسکتا ہے۔ یہ ڈیوائس صرف ایک ملی میٹر پتلی ہے اور اسے چشمے کے فریم میں نصب کردیا جاتا ہے جس کے بعد یہ کسی تصویر کو اتنا ہی بڑا دکھاتی ہے جیسے کسی 60 انچ کے ٹیلیویژن کو دس فٹ دور سے دیکھا جائے ۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …