پیر , 1 مارچ 2021

ڈیٹا سینٹرز کی زیرِ آب منتقلی

26

فیس بُک، ٹویٹر، یا جی میل اور یاہو میل میں موجود ہمارا ڈیٹا ان کی مالک کمپنیز کے سرورز میں محفوظ ہورہا ہوتا ہے۔ مائکرو سوفٹ، گوگل، فیس بُک جیسی کمپنیاں جن کے صارفین کی تعداد کروڑوں بلکہ اربوں میں ہے، ان کی تمام معلومات وسیع و عریض ڈیٹا سینٹرز میں موجود ان گنت سرورز میں محفوظ ہوتی ہیں۔
بہ الفاظ دیگر ڈیٹا سینٹرز ان کمپنیوں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ ان میں ذرا سی گڑبڑ ہونے کی صورت میں صارفین کو مہیا کی جانے والی مختلف سروسز متاثرہوسکتی ہے۔ دنیائے انٹرنیٹ کی بڑی کمپنیوں نے اپنے صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے وسیع و عریض عمارتیں قائم کی ہیں، جنہیں ڈیٹا سینٹرز کہا جاتا ہے، مگر اب مائکرو سوفٹ ایسے ڈیٹا سینٹرز کو زیرآب منتقل کرنا چاہتی ہے۔
بل گیٹس کی کمپنی ان دنوں ڈیٹا سینٹر کے ماڈل یا پروٹوٹائپ کی آزمائش کررہی ہے جو سطح سمندر سے کئی سو فٹ کی گہرائی میں رہتے ہوئے کام کرسکتے ہیں۔ اس منصوبے کو ’’پروجیکٹ نیٹک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت چار ماہ کے عرصے میں آٹھ فٹ قطر کا حامل ایک خصوصی ڈیٹا سینٹر بنایا گیا جسے ایک فولادی کیپسول میں محفوظ کیا گیا تھا۔ اس ’کیپسول‘ کو کیلیفورنیا کے ساحل سے تھوڑی دور تیس فٹ کی گہرائی میں رکھا گیا ہے۔
مائکروسوفٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ڈیٹا سینٹر زیرآب پہنچایا گیا ہے۔ کیپسول کے اوپر ایک سو مختلف سینسرز بھی نصب کیے گئے ہیں جو دباؤ، اندرونی فضا میں نمی اور دیگر عوامل کی نشان دہی کریں گے۔ کیپسول نما ڈیٹا سینٹر فعال رہنے کے لیے 300 ڈیسک ٹاپ کمپیوٹروں کے مساوی توانائی خرچ کرتا ہے۔ انجنیئروں نے اس ڈیٹا سینٹر کی کام یاب آزمائش کی، اور مائکروسوفٹ کی کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروس کے ذریعے اس پر کمرشل ڈیٹا پروسیسنگ پروجیکٹس چلائے۔
کام یاب آزمائش کے بعد مائکروسوفٹ نے زیرآب کام کرنے والے ڈیٹا سینٹر ڈیزائن کرنے پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ ان کی جسامت آزمائشی ڈیٹا سینٹر سے آٹھ گنا زیادہ ہوگی۔
مائکروسوفٹ کا دعویٰ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے زیرسمندر منتقل ہونے سے نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتا میں اضافہ ہوگا بلکہ ان سے جُڑے کئی مسائل بھی حل ہوجائیں گے، جن میں سرفہرست کُولنگ ہے۔ ڈیٹا سینٹرز میں چلنے والے سرورز گرمائش خارج کرتے ہیں۔ انھیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے کولنگ سسٹم لازمی ہے جس کی تنصیب اور اسے فعال رکھنے پر کثیر لاگت آتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بڑی مقدار میں بجلی بھی خرچ کرتے ہیں۔
سمندری پانی ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کے لیے اضافی کولنگ سسٹم کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ چناں چہ کولنگ سسٹم کی تنصیب اور اسے فعال رکھنے پر آنے والے اخراجات نیز توانائی کی بچت ہوگی۔ علاوہ ازیں سمندری لہروں کی ماحرکیاتی توانائی ( یا ہائیڈروکائنیٹک انرجی ) کا کمپیوٹنگ پاور کے لیے استعمال بھی ڈیٹا سینٹرز میں توانائی یا بجلی کی کھپت محدود کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیرآب ڈیٹا سینٹرز کو موجودہ ذرائع سے بجلی کی طلب باقی نہیں رہے گی۔ انھیں سمندری لہروں کی حرکت سے بجلی بنانے کا نظام فعال رکھے گا۔
دنیا کی نصف آبادی ساحل سمندر سے 120 میل کے علاقے میں بستی ہے۔ ساحل سمندر کے قریب ڈیٹا سینٹرز کی موجودگی سے ڈیٹاسینٹرز اور صارفین کے درمیان فاصلہ کم ہوجائے گا چناں چہ انھیں تیزرفتار انٹرنیٹ دست یاب ہوسکے گا۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …