بدھ , 3 مارچ 2021

لفٹ کے بہانے اغوا کرنے والے دس افراد پر فردِ جرم عائد

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے لفٹ کے بہانے امیر زادوں کو اغوا کرنے کے مقدمے میں دو خواتین سمیت دس افراد پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

10

ان ملزمان کو پولیس کے سخت پہرے میں جمعرات کو عدالت میں لایا گیا جہاں پر اُن ملزموں کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔
مقامی پولیس کے مطابق رخسانہ بی بی اور ان کی والدہ اسلام آباد کی شاہراہوں پر کھڑی ہو جاتیں جہاں پر وہ گاڑی والوں سے لفٹ مانگتی تھیں۔
پولیس کے مطابق یہ خواتین لفٹ دینے والے افراد کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ جاتیں اور انھیں چکٹی چڑی باتوں میں لگانے کے بعد کچھ فاصلے پر جا کر ان کے دیگر ساتھی سڑک کے کنارے کھڑے ہوتے تھے۔
پولیس کے مطابق یہ خواتین اپنے دیگر ساتھیوں کا تعارف لفٹ دینے والے کو اپنے عزیز واقارب کے طور پر کراتی تھیں جس کے بعد وہ گاڑی میں سوار ہو جاتے تھے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے ملزمان اسلحہ نکال کر لفٹ دینے والے کی کنپٹی پر رکھ کر اسے اغوا کر لیتے تھے۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان لفٹ دینے والے افراد کو صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں لے جاتے جہاں سے مغوی کے گھر والوں کو فون کر کے اُن سے تاوان مانگتے تھے۔
پولیس کے مطابق تاوان کی رقم ملنے کے بعد ملزمان مغوی کو ویرانے میں چھوڑ کر فرار ہو جاتے تھے۔
پولیس کے مطابق ان واقعات کی اطلاع ملنے کے بعد شہر کی پولیس کو چوکس کر دیا گیا تھا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک شہر کی کاروباری شخصیت کے بیٹے سے لفٹ لینے کے بعد اسے اغوا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
دوران تفتیش ملزمان نے متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد اُنھیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ان ملزمان کی ابھی تک ضمانت نہیں ہو سکی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کے بعد آئندہ سماعت پر شہادتیں طلب کر لی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …