جمعرات , 4 مارچ 2021

ملک میں چینی62.07روپے کلو، نرخ 10فیصد تک نہ بڑھنے کا دعویٰ

 اسلام آباد: بین الوزارتی کمیٹی نے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں وافر اسٹاک اور عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔

28

جمعرات کو وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کی زیرصدارت کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری تجارت، سیکریٹری صنعت و پیداوار، ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ اور وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے نمائندے نے شرکت کی۔ کمیٹی نے اعادہ کیا کہ چینی کی برآمد کی اجازت صرف ان ملوں کو دی جائیگی جو کسانوں کو گنے کی قیمت 180 روپے فی من ادا کرینگی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دسمبر 2015 میںبرآمد کی اجازت کے بعد سے21 ہزار 133 میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کی جا چکی ہے۔
سیکرٹری صنعت نے بتایا کہ اس وقت ملک میں 22لاکھ 50ہزار میٹرک ٹن چینی موجود ہے اور گنے کا کرشنگ سیزن وسط اپریل تک جاری رہے گا جس کی بدولت چینی کے ذخائر مزید بڑھیں گے، چینی کی 4 لاکھ میٹرک ٹن ماہانہ کھپت کومد نظر رکھتے ہوئے چینی کے موجودہ اور آنے والے ذخائر آئندہ کئی ماہ کی ضروریات کیلیے کافی ہیں۔
واضح رہے کہ بین الوزارتی کمیٹی نے گزشتہ ماہ اپنے پہلے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ چینی کی قیمتیں 10فیصد سے زائد بڑھنے کی صورت میں برآمد روکنے کی تجویز دی جائیگی۔ حالیہ اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کی قیمت 10دسمبر کو 57.20 روپے فی کلو گرام تھی جو اب 62.07 روپے فی کلو گرام ہے، چینی کی قیمتوں میں یہ اضافہ 10فیصد سے کم ہے اور اس نے برآمدات روکنے کیلیے کمیٹی کی طے شدہ حد سے تجاوز نہیں کیا جبکہ ملک میں وافر ذخائر اور عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود مقامی چینی کی قیمت میں یہ اضافہ بھی ناقابل فہم ہے۔
چینی کی پیداوار میں اضافے کی توقع کے پیش نظر آئندہ دنوں میں یہ قیمتیں گزشتہ سطح تک واپس آنی چاہئیں۔ وفاقی وزیر تجارت نے کمیٹی کو چینی کی قیمتوں اور ذخائر کا بغور جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ مستقبل خصوصاً رمضان میں چینی کی مارکیٹ میں افواہوں اور مصنوعی اتار چڑھاؤ کا تدارک کیا جا سکے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت نے تیل و گیس کی پیداوار کی ریئل ٹائم نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے شفافیت کے مطالبات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت …