جمعہ , 26 فروری 2021

پاکستان سے تعلقات: منموہن کی مودی پر تنقید

56bfd55b6fc64

ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک انٹرویو میں نریندر مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والی کمی سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں اور پاکستان کے حوالے سے ان کی پالیسی میں تضاد موجود ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ مودی کو ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مودی سرکار پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

منموہن سنگھ نے بتایا کہ ‘یقینی طور پر مزکری طاقتوں سے ہمارے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی ہمسایہ ممالک سے تعلقات خارجہ پالیسی کا اصل امتحان ہے، مودی سرکار کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

‘یہاں ایک قدم آگے بڑھایا جاتا ہے تو دو پیچھے آتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کو اقتصادی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے مالی توازن پیدا کرنا چاہیے اور تجارت کیلئے سرمایہ کی موجودگی کو بڑھانا چاہیے۔

سال 2014 میں ہندوستان کے وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے والے منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ ‘منتخب حکومت کے ہاتھ میں یہ ایک موقع ہے کہ وہ ملک کی معیشت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کیے جائیں’۔

اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ حکومت تیل اور ضروریات کی اشیاء کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ نہیں اٹھا رہی جو کہ ہندوستان کے درآمدی بل میں کمی لاسکتیں ہیں۔

درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں واضح کمی کے باعث تجارتی خسارے میں کمی آئی ہے، اس اضافے سے اُمید کی جارہی ہے کہ یہ معیشت کو ترقی دینے میں مدد فراہم کرے گا۔

فنانس کے وزیر ارون جیٹلے 29 فروری کو حتمی بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں، مزکورہ عمل میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ لیکن حکومت طلب میں اضافے کیلئے اپنے بجٹ خسارے کے اہداف کو ختم کر سکتی ہے۔

اپنی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ارون جیٹلے نے منموہن سنگھ کی حکومت کو معیشت کو منظم کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا اور مزید کہا کہ حزب اختلاف کانگریس پارلیمان میں اصلاحات کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

منموہن سنگھ کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پارلیمنٹ افیئر منسٹر اور میں نے پارلیمنٹ میں موجود ہر سینئر کانگریس رکن کے ساتھ جی ایس ٹی پر بات چیت کی ہے’۔

خیال رہے کہ اشیاء اور سروسز پر منظور شدہ ٹیکس (جی ایس ٹی) ہندوستان کے قیام کے بعد سے ملک میں سب سے زیادہ ریوینو پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے جس پر قانون سازییت ضروری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

برطانوی پارلیمنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے گی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش …