اتوار , 28 فروری 2021

’شام میں امن کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق‘

151221224254_trump_asegur_varias_veces_que_barack_obama_no_tiene_el_liderazgo_que_tiene_vladimir_putin_624x351_afp_nocredit

امریکی صدر براک اوباما اور روس کے صدر ولادی میر پوتن نے شام میں جنگ بندی کے لیے گذشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اتوار کو ٹیلی فون پر ہونے والے رابطے میں دونوں رہنماوں نے دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔
شام میں ترکی کی بمباری، ’کرد ملیشیا علاقہ خالی کرے‘
دوسری جانب شام کے تنازع کے پرامن حل کے جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والے مذاکرات کا آج آخری دن ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگہرینی نے سنیچر کو کہا تھا اب وہ وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو شام کے معاملے پر اپنے کردار کو واضح کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ترکی میں اپنے جنگی طیاروں کی تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔

9

سعودی حکومت کو موقف ہے کہ یہ طیارے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ اب تک شام میں بمباری کرنے والے سعودی جہاز اپنے ملک میں واقع فضائی اڈوں سے ہی اڑتے تھے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ترکی میں تعیناتی سے طیارے حدف کو آسانی سے نشانہ بنا سکیں گے۔ تاہم سعودی فوج کے جنرل احمد عسیری کا کہنا ہے کہ فی الحال طیاروں کے ساتھ زمینی دستے تعینات نہیں کیے جا رہے ہیں۔
جنرل احمد کا مزید کہنا تھا کہ امریکی قیادت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے والے فوجی اتحاد کا خیال ہے کہ زمینی دستوں کے بغیر دہشت گردوں کو شکست نہیں دی جا سکتی اس لیے ان کا ملک شام میں زمینی افواج بھیجنے کے لیے پر عزم ہے۔
ترکی کی شامی کردوں کے خلاف کارروائی

(شامی کردوں نے ترکی کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے کہ وہ تُرک سرحد کے ان قریبی علاقوں سے نکل جائیں جہاں انھوں نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے۔ کرد تنظیم پی وائے ڈی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ترکی کو شام کے امور میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔خیال رہے کہ ترکی شامی کردوں کو خود تُرکی کے اندر خودمختاری کے لیے لڑنے والے کرد گوریلاؤں کا اتحادی سمجھتا ہے۔)
اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے فوجی شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لیں۔
خیال رہے کہ ترکی اور سعودی عرب شام میں باغیوں کے حمایتی ہیں جنھیں حال ہی میں شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے کئی علاقوں میں شکست دی ہے۔
ترکی نے شام میں موجود کرد جنگجوؤں کے خلاف بھی فوجی کارروائی کی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ترکی نے شام کے شمال میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کرد ملیشیا اس علاقے کو چھوڑ دے۔
جبکہ شامی کردوں ترکی کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے کہ وہ ترک سرحد کے ان قریبی علاقوں سے نکل جائیں جہاں انھوں نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے۔ کرد تنظیم پی وائے ڈی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ترکی کو شام کے امور میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔
واضح رہے کہ ترکی شامی کردوں کو خود تُرکی کے اندر خودمختاری کے لیے لڑنے والے کرد گوریلاؤں کا اتحادی سمجھتا ہے۔
روس اس سے پہلے خبردار کر چکا ہے کہ شام میں کسی بیرونی ملک کی زمینی مداخلت کے نتیجے میں جنگ عظیم بھی شروع ہو سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …