جمعرات , 4 مارچ 2021

ملک میں گہرے پانی کا پہلا کنٹینر ٹرمینل اگست سے کام شروع کردے گا

23

کراچی: پاکستان میں گہرے پانی کا پہلا کنٹینر ٹرمینل رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں تجارتی بنیادوں پر کام شروع کردے گا۔
پاکستان میں پبلک پرائیوٹ انویسٹمنٹ کے تحت 1.3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے لگایا جانے والا گہرے پانی کا کنٹینر ٹرمینل ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے لحاظ سے خطے کا بہترین ٹرمینل ہوگا جس میں بحری جہاز سے یارڈ میں کنٹینرز اتارنے اور جہاز پر لوڈ کرنے کے لیے 16جدید ترین ہیوی کرینز نصب کی جائیں گی۔ ہانگ کانگ کی ہیوچین سنز پورٹ ہولڈنگ کے ذیلی ادارے ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز لمیٹڈ کے زیر انتظام یہ ٹرمینل کرینز کی تعداد کے لحاظ سے بھی خطے کا سب سے بڑا ٹرمینل ہوگا۔ ٹرمینل کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔
چار مراحل پر مشتمل اس ٹرمینل کا پہلا مرحلہ رواں سال اپریل تک مکمل کرلیا جائے گا جس کے لیے چار کرینیں اور 6ہائی برڈ ربڑ ٹائر جینٹریز درآمد کی جاچکی ہیں، مزید ایک کرین اور 9 آر ٹی جیز درآمد کی جائیں گی، منصوبے کا سافٹ لانچ مئی میں متوقع ہے جبکہ پہلے فیز سے کمرشل آپریشنز جولائی یا اگست سے شروع کردیے جائیں گے۔
ٹرمینل کی تکمیل کے بعد مال بردار بڑے بحری جہاز جو اب تک پاکستان کی بندرگاہ پر نہیں آتے پاکستان آنا شروع کردیں گے ٹرمینل کی گہرائی 16میٹر ہے جسے ضرورت پڑنے پر 18میٹر تک بڑھایا جاسکتا ہے ٹرمینل پر دنیا کے سب سے بڑے مال بردار بحری جہاز نیو پینامیکس پلس جن کی گنجائش 10سے 12500ٹی ای یوز ہوتی ہے اور 15سے 18000 ٹی ای یوز کی گنجائش والے پوسٹ نیو پینامیکس ٹرپل ای جہاز بھی لنگر انداز ہوسکیں گے۔
ٹرمینل کے فعال ہونے سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا ٹرمینل ٹیکسوں کی ادائیگی میں نمایاں کردار اداکرنے کے ساتھ بڑے بحری جہازوں کے لیے دستیاب ہونے کی وجہ سے درآمدی اور برآمدی کارگوکی لاگت کم کرنے کا بھی زریعہ بنے گا ٹرانس شپمنٹ کی وجہ سے کارگو کی آمدورفت میں لگنے والے وقت کی بچت ہوگی جبکہ روزگار کے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ گہرے پانی کا ٹرمینل ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی خطے اور ملک کے دیگر ٹرمینلز سے ممتاز ہے ٹرمینل کی تمام عمارتیں شمسی توانائی استعمال کریں گی۔
ٹرمینل پر پانی کو صاف کرنے کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے جو تیل کو پانی سے الگ کرکے محفوظ اور ماحول دوست طریقے سے تلف کرے گی تاکہ سمندرکو آلودگی سے محفوظ رکھا جاسکے اسی طرح ٹرمینل کے آپریشنز، کنٹینر ہینڈلنگ، اسکیننگ اور ٹرانسپورٹ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سلوشنز استعمال کیے جائیں گے۔
توانائی کے کفایت بخش استعمال کے لیے ہائی برڈ جینٹریز نصب کی جارہی ہیں اسی طرح بڑی کرینز بھی اضافی طاقت کو ضایع کرنے کے بجائے دیگر کرینز کے ساتھ لوڈ منجمنٹ کے تحت توانائی منتقل کریں گی اس طرح ماحول کو آلودگی سے بچانے میں مدد ملے گی۔ ٹرمینل پر فلک بوس کرینز نصب ہونے کے بعد کراچی کی اسکائی لائن بین الاقوامی پورٹ سٹی سے مطابقت حاصل کررہی ہے ان کرینز پر جدید ایل ای ڈی لائٹس بھی نصب کی جارہی ہیں تاکہ شہری رات کے وقت دور سے بھی ٹرمینل کے اس خوبصورت منظر کا نظارہ کرسکیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کا بجٹ خسارہ 6.6 فیصد تک پہنچ گیا

اسلام آباد: (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کا بجٹ خسارہ بڑھ کر …