جمعرات , 4 مارچ 2021

‘مر بھی جاؤں تو کہاں ،لوگ بھلا ہی دیں گے’

خوشبو جیسے لہجے کی مالک شاعرہ پروین شاکر کو ہم سے بچھڑے  21 سال ہو گئے ہیں۔

چوبیس نومبر 1952 کی سرد رات کو کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکر کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔

ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادیب پیدا ہوئے جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت نمایاں ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔

پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔

انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

صرف 24 سال کی عمر میں ان کے اشعار کا پہلا مجموعہ ‘خوشبو’ شائع ہوا، 1977 میں شائع ہونے والے اس شعری مجموعے کو بیسٹ سیلر کا اعزاز حاصل ہوا۔

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

مقابلے کے امتحان میں اعلی پوزیشن لے کر محکمہ کسٹم سے وابستہ ہوگئیں۔ترقی پا کر ڈپٹی کلیکٹر کسٹم اینڈ ایکسائز اسلام آباد تعینات ہوگئیں۔شاعری کا شوق پروین شاکر بچن سے ہی تھا۔

ابتدا میں پروین شاکر بینا تخلص سے شاعری کرتی تھیں۔بعد میں پروین شاکر کے نام سے لکھنا شروع کردیا ۔پروین سے پہلے کسی بھی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنی نزاکت سے بیان نہیں کیا۔

کوئی سوال کرے تو کیا کہوں اس سے

بچھڑنے والے سبب تو بتا جدائی کا

کیسے کہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

کون چاہے گا تمہیں میری طرح

اب کسی سے نہ محبت کرنا

آپکے دیگر مجموعے میں صد برگ انیس سو اسی،خود کلامی انیس سو پچیاسی،انکار انیس سو نوے اور اسکے بعد ماہ تمام کلیات 1994 میں شائع ہوا۔

انیس سو نوے میںپروین شاکر کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔انہوں نے جہاں آدم جی ایوارڈ حاصل کیا وہیں عالمی ضمیر ایوارڈ، فیض احمد فیض ایوارڈ، علامہ اقبال ایوارڈUSIS, ایوارڈ بھی انکو تفویض ہوا۔

1976میں ان کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی اور 1978 میں ان کا بیٹا مراد علی پیدا ہوا اور1987 میں ان کی اپنے شوہر سے علیحدگی ہو گئی۔

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

ان کے پہلے مجموعے خوشبو میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار ہے اور اس وقت پروین شاکر اسی منزل میں تھیں۔ زندگی کے سنگلاخ راستوں کا احساس تو بعد میں ہوا جس کا اظہار ان کی بعد کی شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ ماں کے جذبات شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

جس طرح خواب میرے ہوگئے ریزہ ریزہ

اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کر بکھرے کوئی

پروین شاکر 26دسمبر 1994کو ایک ٹریفک حادثے میں اس دنیا فانی سے کوچ کر گئیں اور اپنے پیچھے چھوڑ گئیں اپنی شاعرانہ مجموعوں کی شکل میں اپنی یادیں،جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

ان کے قبر کے کتبے پر یہ اشعار درج ہیں :

مر بھی جاؤں تو کہاں ،لوگ بھلا ہی دیں گے

لفظ میرے ،میرے ہونے کی گواہی دیں گے

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

یہ بھی دیکھیں

پچیس ذیقعدہ کا دن نزول رحمت اور فرش زمین بچھنے کا دن ہے

حضرت امام رضا علیہ السلام جب خراسان کے سفرکے دوران 25 ذیقعدہ کو مرو پہنچے …