جمعرات , 4 مارچ 2021

کردوں کے روس کی جانب رجحان کے تین اسباب

1856605

شامی کردوں کی ماسکو کی جانب توجہ مبذول ہونے کے کئی عوامل کا تاریخی اور تزویری تناظر میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے، ایک امریکی تجزیہ کار کا کہنا ہے۔

شامی کردوں کی واشنگٹن سے منہ موڑ کر ماسکو کی جانب رخ کرنے کی وجوہات ہیں، شکاگو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے والے سکالر مارگن کپلان نے  کہا ۔

"بدھ کے روز شام کی سب سے بڑی کرد پارٹی کی حامی "ڈیموکریٹک یونین پارٹی” نے اپنا پہلا بیرون ملک دفتر، ماسکو میں کھولا ہے” مضمون میں لکھا گیا ہے۔ ” اس عسکری اور سیاسی امداد کے پیش نظر جو مذکورہ پارٹی نے امریکہ سے وصول کی ہے، مغرب میں اس فیصلے کو کسی حد تک صدمے اور ژولیدہ سری کے عالم میں لیا جائے گا”۔

تاہم کردوں کا تاریخی تجربہ اور ان کے گہرے مفادات ثابت کرتے ہیں کہ ماسکو کے ساتھ تعاون ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے لیے تزویری اہمیت کا حامل ہوگا۔

کپلان نے دلائل کی ایک فہرست دی ہے جن سے ثابت کیا جا سکے کہ کرد جو داعش کے خلاف لڑنے والی بڑی قوتوں میں سے ایک ہیں، اب واشنگٹن سے منہ موڑ کر ماسکو کی جانب اپنا رخ کیوں کر رہے ہیں۔

تجزیہ کار کے مطابق پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اور شامی کرد شروع سے ہی امریکہ کے اتحادی نہیں رہے۔

"کردوں کو بیرونی اتحادیوں کی جانب سے تنہا چھوڑ دیے جانے کی ایک طویل اور تلخ تاریخ ہے چنانچہ کردوں کا کوئی گروہ ایک ہی فریق کو سارے پتے نہیں بانٹ سکتا” انہوں نے لکھا۔ مثال کے طور پر شامی کردوں کی عسکری شاخ ڈیموکریٹک یونین پارٹی 2011 میں تشکیل دی گئی تھی جس نے 2014 میں تب امریکہ کے ساتھ بھرپور رابطہ شروع کیا تھا جب داعش کے جنگجووں نے کوبانی کا محاصرہ کر لیا تھا۔

امریکہ کی جانب سے اس کے ساتھ تعلق میں سرد مہری کی ایک وجہ اس کا کردستان ورکرز پارٹی سے الحاق ہونا ہے جسے انقرہ دہشت گرد تنظیم خیال کرتا ہے۔ واشنگٹن نیٹو میں اپنے بڑے اتحادی ملک کو ناراض کرنے سے پہلو بچاتا ہے، کپلان نے لکھا۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ پارٹی ماسکو کے ساتھ شراکت کاری کو اپنے لیے زیادہ سود مند خیال کرتی ہوگی کیونکہ اس کے مغرب کے ساتھ ارتباط کے سارے بندھن کمزور ہیں، مضمون میں کہا گیا۔

ترکی کی انتہائی کوشش ہے کہ پی وائی ڈی روس ارتباط کو امریکہ کی نظروں میں ہیچ کر دے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان دونوں نے ایک دوسرے کو داعش اور ترکی دونوں کے خلاف سودمند اتحادی جانا۔

” درحقیقت یہ روسی ہی تھے جنہوں نے گذشتہ ہفتے جینیوا میں شام سے متعلق مذاکرات میں پی وائٰ ڈی کے نمائندوں کو تسلیم کیے جانے پر زور دیا تھا اور یہ یقین کیا جاتا ہے کہ حلب پہ ہونےوالے تازہ حملے میں بھی وائی پی ڈی کی روس نے بہت مدد کی تھی” تجزیہ کار نے نکتہ نکالا۔

مزید برآں یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگجو گروہوں کی امداد کے ضمن میں امریکہ "ناقابل قیاس” ہے اور اس ضمن میں کرد استثنٰی نہیں ہیں۔

ماسکو پر شامی کردوں کے تکیہ کرنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ماسکو کا ” بعد از تصادم معاملات کے حل میں دمشق پر بہت زیادہ اثر و رسوخ ہوگا”۔ شامی کرد بعد از حل معاملات میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے چالیں چل رہے ہیں، مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔

” پوتن بلا شبہ اسد کا سب سے بڑا بین الاقوامی اتحادی ہے اور اس طرح شامی کردوں کے مطالبات منوانے کی خاطر ان کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہوگا” مضمون نگار نے مزید کہا۔ شامی کردوں کے تناظر میں بشار الاسد کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے شام میں کردوں کو خودمختاری دلوانے میں ماسکو کے ساتھ روابط مددگار ہونگے نہ کہ واشنگٹن کے ساتھ، انجام کار مضمون میں کہا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

شہید قاسم سلیمانی کے قتل کا جواب امریکہ کو دینا ہو گا: ایران

مجید تخت روانچی نے ایران اور امریکہ کے مابین قیدیوں کے تبادلے کے سوال پر …