اتوار , 7 مارچ 2021

امریکی ہسپتال پر سائبر حملہ، لاکھوں ڈالر تاوان کا مطالبہ

24

رینسم ویئر نامی وائرس کمپیوٹر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک خطرہ بنا ہوا ہے لیکن جب سے اس وائرس کی مدد سے ایک امریکی ہسپتال کو ہیک کیا گیا ہے، معاملات کی نوعیت مزید سنگین ہوگئی ہے۔
امریکی شہر لاس اینجلس میں ہالی وڈ پریسبیٹیرین میڈیکل سینٹر کے کمپیوٹر سسٹم اسی قسم کے وائرس کے حملے کے بعد ایک ہفتے سے بند پڑے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہیکرز نے چوری کیے جانے والے ڈیٹا کی بازیابی کا کوڈ دینے کے عوض ہسپتال سے تقریباً 34 لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔
ہسپتال کی انتظامیہ نے اپنے کمپیوٹر سسٹم پر سائبر حملے کی تصدیق تو کی ہے لیکن رقم کے مطالبے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
انتظامیہ نے مریضوں کو ایک پیغام کے ذریعے یہ یقین بھی دلایا ہے کہ ان کے طبی ریکارڈ تک ہیکرز کی رسائی نہیں ہو سکی اور وہ محفوظ ہیں۔
اس واقعےکی تفتیش ایف بی آئی، لاس اینجلس پولیس اور کمپیوٹر کے قانونی نظام کے ماہرین کر رہے ہیں۔

25

رینسم ویئر کے حملے عام ہوتے جارہے ہیں اور ابھی تک ان کا مکمل سدباب نہیں کیا جا سکا ہے
دوران تفتیش ہسپتال کے حکام نے بتایا ہے کہ ان کے کمپیوٹر سسٹم پر حملہ کسی قسم کی ہدف بنا کر کی گئی کارروائی معلوم نہیں ہوتی۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حملے کے باوجود بھی ہسپتال کی روزمرہ کی کارروائی متاثر نہیں ہوئی ہے، البتہ بہت سارے کام جو عملہ پہلے کمپیوٹر پر کرتا تھا اب اسے کاغذوں پر کرنے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے عملہ پریشانی کا شکار ہے۔
مریضوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی طبی رپورٹیں آن لائن حاصل کرنے کے بجائے خود ہی ہسپتال آ کر وصول کریں۔
رینسم ویئر کے حملے عام ہوتے جارہے ہیں اور ابھی تک ان کا مکمل سدباب نہیں کیا جا سکا ہے۔

26

رینسم ویئر کی سب سے عام قسم کریپٹولاکر کہلاتی ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اب تک دنیا کے ہزاروں کمپیوٹروں کو متاثر کر چکی ہے
یہ خطرناک وائرس ایک سوفٹ ویئر کے ذریعے کمپیوٹر سسٹم میں داخل کیا جاتا ہے جس سے سسٹم کی فائلیں تک رسائی ممکن نہیں رہتی۔
اس وائرس کا مقصد کمپیوٹر صارفین سے ان کی فائلوں تک رسائی کی بحالی کے بدلے میں بھاری رقم وصول کرنا ہوتا ہے۔
صارفین کو یہ کہ کر بھی دھمکایا جاتا ہے کہ اگر انھوں نے رقم ادا نہ کی تو ان کی تمام فائلوں کو ختم ہی کردیا جائے گا۔
رینسم ویئر کی سب سے عام قسم کریپٹولاکر کہلاتی ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اب تک دنیا کے ہزاروں کمپیوٹروں کو متاثر کر چکی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …