جمعرات , 4 مارچ 2021

بھارت میں انصاف کے دیوتا آپس میں ہی الجھ گئے

35

چنئی: بھارت میں کھیل کا میدان ہو یا کمرہ انصاف، نسل پرستی اور ذات پات کی لعنت سے کوئی بھی محفوظ نہیں لیکن اب اس کے خلاف آواز انصاف کے ایوان میں اٹھنے لگی ہے اسی لیے مدراس ہائی کورٹ کے جج نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں نسل پرستی کا نشانہ بنا کر ان کا تبادلہ کیا گیا ہے جس پروہ سپریم کورٹ کے ان ججز کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا حکم دیں گے۔
مدراس ہائی کورٹ کے جج جسٹس سی ایس کرنان کو سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے عدالتی کام سے روکتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ تبادلہ کردیا تھا جس پر جسٹس کرنان نے سخت رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا عدالتی اختیار اب بھی ان کے پاس ہے اور وہ اس کا استعمال کرتے ہوئے سو موٹو نوٹس لے کرپولیس کو حکم دیں گے کہ وہ متعلقہ ججز کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔
بھارتی ججوں کی یہ لڑائی اس وقت کھل کر سامے آگئی جب جسٹس کرنان نے سپریم کورت ججز کے خلاف پریس کانفرنس کرڈالی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ وہ کچھ ججز کے تعصب کا نشانہ بنے ہیں اور وہ ان تمام ججز کو پارلیمنٹ میں کھینچ کر لائیں گے تاکہ وہ فیصلہ کرے کہ حق پر کون ہے تاہم وہ بے گناہ ہیں اور اسے ثابت کرکے دکھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ججز کی توجہ کچھ معاملات کی طرف دلائی تو انہوں نے بجائے اس پر کوئی ایکشن لینے کے انہی کے خلاف کارروائی کرنا شروع کردی۔

یہ بھی دیکھیں

برطانوی پارلیمنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے گی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش …