ہفتہ , 27 فروری 2021

’’ انسانی دماغ ایک ہزار کھرب بائٹس معلومات کا ذخیرہ کرسکتا ہے ‘‘

53

کیلی فورنیا: کہتے ہیں کہ انسان ماں کی گود سے قبر تک سیکھتا ہی رہتا ہے اور دماغ ان تمام باتوں کو یاد بھی رکھتا ہے تو پھر قدرت کی جانب سے عطیہ کردہ ہمارے اس میموری کارڈ کی گنجائش کتنی ہے اس بارے سائنسدان ہمیشہ قیاس آرائیاں ہی کرتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک جدید تحقیق کے دوران سانسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک عام دماغ ایک ہزار کھرب بائٹس یعنی معلومات کا ذخیرہ کرسکتا ہے جو دنیا کے جدید ترین سپر کمپیوٹر کی میموری کے برابر ہے۔
امریکی جریدے ’’ فوربز ‘‘ کے مطابق انسانی دماغ کی معلومات کے ذخیرہ کرنے کی اہلیت ماضی کے تجربات سے سامنے آنے والے اعدادوشمار سے متعدد گنا زیادہ ہے جس نے کمپیوٹر کی دنیا کے www کے لیے ایک حریف کی شکل اختیار کرلی ہے، نیورو سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ کی استطاعت موجودہ اندازے کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہے۔ امریکی سائنسدانوں نے ذخیرے کی مقدار کا کھوج یوں لگایا کہ دماغی خلیات کے تعلقات میں موجود معلومات کے ذخیرے کے اعدادوشمار کو کمپیوٹر میموری کی اکائی بائٹس میں تبدیل کیا۔
ایک بائٹ 8 بٹس پر مشتمل ہوتی ہے جس کی قدر صفر یا ایک (آن یا آف) ہے۔ تحقیق سے سامنے آیا کہ انسانی دماغ ایک ہزار کھرب بائٹس ایک کے بعد 15 صفر( 1000 000 000 000 000) معلومات کا ذخیرہ کرسکتا ہے جسے پیٹا بائٹس کہتے ہیں۔ کیلی فورنیا کی حیاتیاتی سائنس کے سالک انسٹیٹیوٹ کے محقق ٹیری سج نوو سکائی کا کہناہے کہ دماغ کی یاد داشت کی اہلیت میں اضافہ محتاط اندازوں کے مطابق دس گنا زیادہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …