پیر , 1 مارچ 2021

عراق اور شام کے بعد انڈیا صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک

150212173731_reporters_without_borders_640x360_non_nocredit

بقول صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنانا ان کے تخفظ کے لیے کیے گئے محدود اقدامات کی ناکامیوں کی جانب اشارہ ہے
صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ آف بارڈرز ( آر ایس بی) کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس دنیا بھر میں 110 صحافی ہلاک ہوئے۔ آر ایس بی کے سالانہ راؤنڈاپ کے مطابق ان میں سے 67 صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
آر ایس بی نے صحافیوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنانا ان کے تحفظ کے لیے کیے گئے محدود اقدامات کی ناکامیوں کی جانب اشارہ ہے۔
2005 سے اب تک 787 صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ آر ایس بی کا کہنا ہے رواں برس ہلاک ہونے والے 110 صحافیوں میں سے 43 کی ہلاکتوں کے بارے میں یہ پتہ نہیں لگایا جا سکا کہ انھیں اپنے کام کے باعث سے یا پھر کسی اور وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
بی بی سی کے صحافی ایکس این مارکس کا کہنا ہے 2015 میں ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صحافت ایک خطرناک شعبہ ہے۔ رواں برس ہلاک ہونے والے 110 صحافیوں میں سے 40 فیصد کو شدت پسند تنظیموں دولت اسلامیہ اور القاعدہ نے نشانہ بنایا۔
شام اور عراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ثابت ہوئے، لیکن وہاں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ باعث حیرت نہیں ہے۔ لیکن فرانس میں رواں برس جنوری میں فرانسیسی میگزین چارلی ایبدو پر شدت پسندوں کے حملے میں اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں کی ہلاکت ضرور باعث تشویش ہے۔

151220160311_isis_640x360_ap_nocredit

2015 میں ہلاک ہونے والے 110صحافیوں میں سے 40 فیصد کو شدت پسند تنظیموں دولت اسلامیہ اور القاعدہ نے نشانہ بنایا
عراق، شام اور انڈیا کے بعد رواں برس سب سے زیادہ صحافی فرانس میں ہلاک ہوئے۔
شام میں گذشتہ سال کی نسبت رواں برس کم صحافی ہلاک ہوئے لیکن اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میڈیا تنظیمیں اب نہ صرف وہاں بلکہ عراق اور لیبیا میں بھی اپنے رپورٹروں کو بھجوانا خطرے سے خالی نہیں سمجھتیں۔
آر ایس بی کے سیکریٹری جنرل کرسٹوفر ڈیلوا کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے موجود بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کے لیے مکینزم بنانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا خصوصی نمائندہ بلاتاخیر مقرر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 110 صحافیوں کی ایک سال میں ہلاکت ہنگامی اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے۔
صحافیوں کے تخفظ کے لیے رواں برس چھ اگست کو اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں سیکریٹری جنرل بان کی مون نے صحافیوں کی ہلاکتوں کے خلاف تشدد میں اضافے کو روکنے اور مجرمان کو سزا نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
آر ایس بی گذشہ 20 برس سے صحافیوں کے خلاف تشدد اور ان کی ہلاکتوں پر مبنی رپورٹ جاری کرتی آئی ہے۔ ایک اور عالمی صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس بھی آج اسی موضوع پر اپنی رپورٹ جاری کرے گی۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …