بدھ , 3 مارچ 2021

سائنسدانوں نے انسانی اعضاء کی تھری ڈی پرنٹنگ میں کامیابی حاصل کرلی

6

نیویارک: عام طورپر پرنٹر کا نام آتے ہی کاغذ پر کسی تحریر یا تصویر کے پرنٹ کا تصور ابھرتا ہے لیکن یہ بات اب پرانی ہوگئی ہے اور اب پرنٹر سے لکڑی اور دیگر اشیا کو ان کے ڈیزائن کے مطابق پرنٹ کیا جاتا ہے لیکن بات یہیں نہیں رکی بلکہ اب سائنس دان اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے انسانی اعضا کی تیاری کرسکیں اسی لیے اسے جدید طب کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی طب جنرل میں چھپنے والے والی تحقیق کے مطابق اس نئی پیش رفت سے کسی حادثے یا بیماری کی وجہ سے انسانی جسم میں پیدا ہونے والی خرابی کو زندہ ریشوں کے استعمال سے درست کیا جا سکے گا جب کہ تحقیق کے دوران جب تھری ڈی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ہڈیاں اور پٹھے جانوروں میں نصب کیے گئے تو انہوں نے نارمل طریقے سے کام کرنا شروع کر دیا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے متاثرہ انسان کے اپنے ہی خلیوں کو ایک خاص ترکیب سے گزارنے کے بعد ان کے ٹوٹے ہوئے جبڑے اور کان کو دوبارہ بنایا جا سکتا ہے بلکہ یہاں تک کہ کسی کے دل میں سوراخ تک کو بھی بند کیا جا سکتا ہے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ان اعضا کی تیاری میں ایک بڑا مسئلہ انسانی خلیوں کو زندہ رکھنا ہے کیونکہ 2 ملی میٹر سے زیادہ موٹے ریشوں میں ان کے خلیوں تک آکسیجن اور دیگر غذائی اجزا نہیں پہنچ پاتے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے ویک فوریسٹ بیپٹسٹ میڈیکل سینٹر کی ایک ٹیم نے یہ نئی تکنیک نکالی ہے کہ تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے تیار کیے جانے والے ریشوں میں اسپنج کی طرح چھوٹے چھوٹے سوراخ رکھے جائیں تاکہ آکسیجن اور غذائی اجزا ان تک پہنچتے رہیں۔

7

اس جدید ٹیکنیک پر کام کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ پرنٹنگ نظام کے ذریعے ریشے اور اعضا تیار کرنے کے اس عمل آئی ٹوپ کے دوران قدرتی طور پر تحلیل ہو جانے والے پلاسٹک سے تیار کی جانے والی شکل کو خلیوں سے بھرپور پانی پر مشتمل ایک مادے کے ساتھ ملایا جاتا ہے جس سے تیار کیے جانے والے اعضا کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے اور جب یہ اعضا جانوروں میں لگائے گئے تو ان کا پلاسٹک خودبخود الگ ہو گیا اور اس کی جگہ اس کے اندر پروان چڑھنے والے خلیوں سے بنے اعضا نے لے لی جب کہ کچھ ہی عرصے بعد زندگی سے بھر پور ان خلیوں میں خون کی شریانیں اور رگیں بھی پیدا ہو گئیں۔
تحقیق کے رہنما کا کہنا ہےکہ تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ ان ریشوں کو انسانی اعضا کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کیوں کہ پرنٹر سے تیار کردہ ان ریشوں میں انسانی ریشوں جتنی طاقت موجود ہے لیکن تحقیق کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ ریشے کتنے دن تک زندہ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی تکنیک کے ذریعے قدرتی طور پر تحلیل ہوجانے والی جھلی سے اعضا کی شکل تیار کرنے کے بعد اس کو خلیوں کے مرکب میں ڈبو دیا جاتا ہے اور جسے مریضوں پر کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

8

پروفسر کا اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس تحقیق میں ہم نے مضبوط خلیے پرنٹ کرنے کی کوشش کی ہے جس میں پٹھوں کے نرم ریشوں سے لے کر کان کی نرم ہڈی اور سخت ہڈیوں جیسے شامل ہیں اور امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتے ہوئے ہم دیگر انسانی ریشے بھی تیار کر لیں گے جب کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسانی اعضا کولیبارٹری میں اگانے کے بجائے ان کے جسم پر ہی پرنٹ کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کالج لندن کے سرجن کا کہنا ہےکہ یہ نتائج واقعی حیران کن ہیں اور انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ تیکنیک اتنی جلدی ترقی کر لے گی تاہم اسے انسانوں پر استعمال کرنے سےقبل مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …