ہفتہ , 6 مارچ 2021

جسم کے مزاحمتی نظام کو کینسرکے خلاف لڑانے والی دوا تیار کرلی گئی

12

واشنگٹن: کینسر ایک ایسی خوفناک اور جان لیوا بیماری ہے جس کا نام سامنے آتے ہی جسم میں خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے جب کہ اس کے علاج کے لیے سائنس دان دان دن رات کوشش کر رہے ہیں تاہم اب سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایسی دوا تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو انسان کے مزاحمتی نظام کو اس قدر مضبوط کردے گی کہ وہ خود کینسر کے خلاف جنگ لڑے گا اور اسے شکست دے گا۔
اس دوا کی تیاری پر کام کرنے والے امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آخری اسٹیج کے کینسر میں مبتلا مریضوں پراس دوائی کے ٹیسٹ میں 90 فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے جو اس بیماری کے علاج میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس کے سالانہ اجلاس میں اس تحقیق کے بانی کینسر ریسرچ سینٹر سیٹل کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ شدید کینسر کے مریضوں پر جب ہر جدید ترین دوا بھی ناکام ہوگئی تو انہوں نے اس نئی دوا کا استعمال کیا جس کے حیرت انگیز مثبت نتائج سامنے آنے جب کہ اس دوا کی ابتدائی کامیابی بے مثال ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کے دوران کینسر کے مریضوں کے جسم کے مزاحمتی نظام کے اندر سے ’’کلر ٹی سیل‘‘ نامی خلیوں کونکالا گیا جو عام طور پر جسم کے ٹشوز کو کسی بم کی طرح تباہ کرتے ہیں پھر سائنس دانوں نے ان سیلز میں جنیاتی طور پر رد و بدل کر کے نیا حملہ آور میکنزم تشکیل دیا اور اسے کیمیرک ایٹیجن ریسیپڑٹرز کا نام دیا گیا جو کینسر کا باعث بننے والے لیمفوبلاسٹک لیوکائما کو اپنا نشانہ بنا تا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی طور پر یہ تیار کردہ جنیاتی میکنزم ٹیومر سیلز کو تلاش، شناخت اور تباہ کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ کینسر کے جو مریض آخری اسٹیج پر بھی ہوں انہیں جب یہ دی گئی تو وہ کچھ ہی دنوں میں زندگی کی طرف لوٹ آئے۔

یہ بھی دیکھیں

بیماری میں حتیٰ الامکان دوا سے پرہیز کیجئے!

اسلامی متون میں بکثرت ایسی احادیث اور روایات موجود ہیں جن میں یہ ہدایت کی …