جمعہ , 26 فروری 2021

امیریکن نیشنل سیکیورٹی کا پروگرام پاکستان میں ہزاروں افراد کی موت کا سبب بن سکتا تھا

1866158

ہیومن رائٹس ڈیٹا انالیسس گروپ کے ڈائریکٹر اور سائنسدان پیٹرک بال ان مشینی مطالعوں کو جو پاکستان میں ڈرون طیاروں سے حملے کیے جانے کی خاطر کیے جاتے تھے ” قطعی مہمل” قرار دیا ہے جن کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں تھی۔ اس کی غلطیوں کا شکار ہزاروں بے گناہ افراد ہو سکتے تھے۔

جیسے کہ پورٹل Arstechnica نے بتایا ہے کہ 2004 کے بعد سے پاکستان میں ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں اڑھائی سے چار ہزار افراد مارے گئے تھے جن میں کی اکثریت کو امریکی حکومت نے انتہاپسند گردانا تھا۔

032868

یہ کوائف پروگرام Skynet کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے، جس کے بارے میں انکشاف امیریکن نیشنل سیکیورٹی کے سابق اہلکار ایڈوارڈ سنوڈن نے کیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق Skynet پاکستان کے موبائل سیٹس کے ذریعے بے تحاشا لوگوں کی نگرانی کرنے کی خاطر استعمال کیا جاتا تھا جن سے مشینی مطالعے کی خاطر "الگورتھم” جمع کیا جاتا تھا، تاکہ اس امکان کا جائزہ لیا جائے آیا متعلقہ شخص دہشت گرد تو نہیں۔
اس الگورتھم کا اصول یہ تھا کہ دہشت گرد کی حرکات و سکنات عام شہری کی حرکات و سکنات سے مختلف ہوتی ہیں۔
تاہم گذشتہ برس کے موسم بہار میں معلوم ہوا کہ اس نظام کے استعمال سے سب سے زیادہ ریٹنگ احمد زائیدان کو دی گئی تھی جو اسلام آباد میں ٹی وی کمپنی "الجزیرہ” کے سربراہ تھے۔ زائیدان ان خطوں میں اکثر جایا کرتے تھے جہاں دہشت گرد وجود رکھتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی تصویر Skynet کے اندرونی نظام میں بطور القاعدہ کے رکن کے شامل ہو گئی۔
اس بارے میں جان کر صحافی موصوف نے Skynet کے کام پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ روابط، ٹیلفون پر کی گئی گفتگووں کے ریکارڈوں یا دوسرے ذرائع کی مدد سے طے کر لینا انتہائی لغو ہے اور اس طرح کی روش غماز ہے کہ متعلقہ لوگوں کو صحافیوں کے پیشے سے متعلق مکمل معلومات نہیں ہیں۔
پروگرام Skynet کا ایک اور اہم حصہ معروف دہشت گردوں کے رویوں کے الگورتھم کا مطالعہ کرنا تھا۔ اس طریقے کی پڑتال کی خاطر ایک لاکھ مختلف افراد اور چھ دہشت گردوں سے متعلق معلومات یکجا کی گئی تھیں، پروگرام کا کام یہ تھا کہ ان میں ساتواں دہشت گرد تلاش کرے۔

1864710

تاہم مسٹر بال اس انداز کو بیکار اور مہمل خیال کرتے ہیں کیونکہ خصوصی ایجنسیوں کے پاس کم دہشت گردوں کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں۔ ” معروف دہشت گرد بہت کم ہوتے ہیں جنکے کوائف تربیت یا شناخت کے ماڈل کے طور پر برتے جاتے ہیں۔ اگر وہ ایک سے دہشت گردوں کے کوائف مطالعے اور پڑتال کے لیے استعمال کرتے ہیں تونتائج بالکل لغو ہونگے” بال نے کہا۔

امیریکن نیشنل سیکیورٹی کی دستاویزات کے مطابق Skynet نے غلطی سے عام لوگوں کو دہشت گرد قرار دے ڈالا تھا اور اصل دہشت گردوں میں سے پچاس فیصد کو نہیں پہچان پایا تھا۔ اس ضمن میں اس نظام نے ساڑھے پانچ کروڑ پاکستانیوں کے رویوں کا مطالعہ کیا تھا۔

بال کا کہنا ہے کہ یہ کوائف گواہی دیتے ہیں کہ Skynet ننانوے ہزار بے قصور افراد کو دہشت گرد بنا ڈالتا اور ممکن ہے کہ ان کا ایک بڑا حصہ ڈرون طیاروں سے کیے جانے والے حملوں میں مارا جاتا۔

 

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …