اتوار , 28 فروری 2021

فاٹا کے یوتھ فیسٹول میں خواتین کھلاڑیوں کی شرکت

کرم ایجنسی کے علاقے علی زئی سے تعلق رکھنے والی طالبہ حنا عباس بیڈمنٹن کی کھلاڑی ہیں۔ ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ اپنے علاقے سے باہر کسی بڑے شہر میں بحثیت خاتون کھیلوں میں اپنی ایجنسی کی نمائمندگی کرسکیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی ہیں وہاں خواتین کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت حاصل نہیں کھیلوں میں حصہ لینا تو دور کی بات۔

انھوں نے کہا کہ ’جب مجھے معلوم ہوا کہ پشاور میں فاٹا کا یوتھ فیسٹول منقعد ہورہا ہے تو میری دل میں بڑی خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی اس میں شرکت کروں حالانکہ بھائی سے اجازت لینا بڑا مسئلہ تھا لیکن انھوں نے کافی منت سماجت کے بعد آخر کار اجازت دے دی۔‘

حنا عباس کے مطابق قبائلی خواتین کو ویسے بھی گھروں سے باہر ہونے والی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے کم ہی مواقع میسر ہیں اور پھر بالخصوص کھیلوں میں شرکت کرنا نہ ہونے کے برابر ہے۔

’ قبائلی عوام نے بڑے مسائل اور تکالیف برداشت کیے ہیں اور بدستور کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں خاصی مایوسی بھی پائی جاتی ہے لیکن فاٹا یوتھ فیسٹول کا انعقاد ایک اچھا اقدام ہے جس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے۔‘

ان کے بقول ایسی سرگرمیاں اب تسلسل سے ہر سال ہونے چاہیے تاکہ نوجوانوں کو ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع مل سکے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امن کی بحالی اور نوجوانوں میں مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پہلے سات روزہ گورنر یوتھ فیسٹول کا انعقاد کیا گیا جس کا اختتام منگل کو ہوا۔

فیسٹول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کا یہ میلہ قبائلی علاقوں کی تاریخ میں سب سے بڑا ایونٹ ہے۔

پشاور، مہمند اور خیبر ایجنسی میں بیک وقت منعقد کیے جانے والے اس یوتھ فیسٹول کا افتتاح بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کیا تھا۔

میلے میں قبائلی خواتین کی طرف سے تیار کی جانے والی بعض مصنوعات اور کپڑوں کے نمونے بھی رکھے گئے

میلے میں تمام قبائلی علاقوں اور ایف آر رینجرز سے تقریباً 1785 کھلاڑی 30 مختلف کھیلوں میں شریک ہوئے۔ اس فیسٹول میں معذور کھلاڑیوں کے لیے بھی خصوصی مقابلے منعقد کئے گئے۔

فسیٹول میں کھیلوں کے علاوہ آرٹ ایگزیبشن، فوڈ فیسٹول اور نوادارات کی نمائش بھی کی گئی۔

کھیلوں کے اس فیسٹول کی خاص بات یہ تھی کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلہ ایسا بڑا میلہ تھا جس میں فاٹا کی خواتین کھلاڑیوں اور ہنر مند خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میلے میں قبائلی خواتین کی طرف سے تیار کی جانے والی بعض مصنوعات اور کپڑوں کے نمونے بھی رکھے گئے۔

تاہم فیسٹول میں شریک کئی قبائلی کھلاڑیوں اور فنکاروں کی جانب سے انھیں وقت پر خرچا نہ دینے، رہائش کے خراب انتظامات اور کھیلوں کا سامان بروقت نہ پہنچانے جیسی شکایات بھی سامنے آئیں۔

اورکزئی ایجنسی کے مشتنی علاقے کےایک مقامی فنکار بادشاہ خان پینٹنگز اور پورٹریٹ بنانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بے پناہ صلاحتیوں کے مالک ہیں لیکن مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہ انتہائی غربت کا شکار ہیں۔ بادشاہ خان کا کہنا ہے کہ وہ معاشی ضروریات پورا کرنے کےلیے اورکزئی ایجنسی میں ٹریکٹر چلاتے ہیں جس سے ان کی روزمرہ گز بسر ہوجاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فیسٹول کے منتظیمن نے انھیں ایک ہفتہ کے پیسے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں قرضہ لے کر یوتھ فیسٹول میں شرکت کے لیے پشاور آیا تھا اور یہ توقع بھی تھی کہ شاید منتظمین کچھ ہمارے فن پارے اور پورٹریٹ خرید لیں گے اور کچھ یومیہ خرچا بن جائے گا تو کچھ دنوں کی دیہاڑی بن جائےگی لیکن نہ تو ہم سے کچھ خریدا گیا اور نہ کوئی خاص رقم دی گئی بلکہ الٹا اب مجھے گاؤں جانے کے لیے مزید کسی سے قرضہ لینا پڑے گا۔‘

بادشاہ خان پینٹنگز اور پورٹریٹ بنانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ان کا شکوہ ہے کہ کہ فیسٹول کے منتظیمن نے انھیں وعدے کے مطابق اجرت ادا نہیں کی

بادشاہ خان نے کہا کہ کھلاڑیوں اور فنکاروں کے رہنے سہنے کے انتظامات بھی بہتر نہیں تھے اور منتظیمین بالخصوص فاٹا سیکریٹریٹ اور فاٹا سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے عملے کا رویہ بھی توہین آمیز تھا جس سے سب لوگ بڑے مایوس ہوئے۔

اپنے خطاب میں گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ فاٹا میں یوتھ فیسٹول کا انعقاد امن کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا آغاز نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے اور ان کی صلاحتیوں کو اجاگر کرنے کے لیے یہ کوشش کی گئی اور آئندہ بھی ایسے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔

تقریباً ایک دہائی سے دہشت گردی سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں صحت مندانہ سرگرمیوں کی ضرورت بہت پہلے سے محسوس کی جارہی تھا اور حالیہ فیسٹول بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم قبائلی نوجوانوں کے ذہنوں سے خوف کی کفیت اس وقت مکمل طورپر ختم ہوگی جب اس قسم کے مقابلے تسلسل سے منعقد کیے جائیں

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …