اتوار , 28 فروری 2021

ماہرین کا کمپیوٹرز اور ویب سائٹس کو متاثر کرنے والے خطرناک وائرس کا انکشاف

14

نیویارک: دنیا بھر کے کمپیوٹر اکثر سائبر حملوں کی زد میں رہتے ہیں اور لاکھ کوششوں کے باوجود وائرس کے حملے جاری رہتے ہیں اور اب ایک بار پھرماہرین نے کمپیوٹرز کی سکیورٹي کے لیے خطرہ قرار دیے جانے والے ایک اور سنگین وائرس کا پتہ چلایا ہے جس سے لاکھوں کمپیوٹر آلات، ایپس اور سوفٹ ویئر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والا یہ وائرس اس قدر پیچیدہ ہے کہ ابھی یہ معلوم کرنا ذرا مشکل ہے کہ اس کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں جب کہ انگلینڈ میں سری یونیورسٹی میں سکیورٹی امور کے ماہر پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس وقت بہت سے ماہریہ معلوم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ کیا یہ واقعی بہت ہی خطرناک ہے یا پھر ہم گولی سے بچ نکلے۔
یہ نیا وائرس ’’جی ایل آئی بی سی‘‘ نامی کوڈ میں پایا جاتا ہے جس کا زیادہ تر استعمال انٹرنیٹ سے آلات منسلک کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور اس کا ایک اہم کام ڈومین کی دیکھ بھال کرنا بھی ہوتا ہے لیکن ’’جی ایل آئی بی سی‘‘ میں پائے جانے والے اسی وائرس کا ہیکرز غلط استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ریڈ ہیٹ کے سیکیورٹی انجینیئروں کے ساتھ کام کرنے والے گوگل کے انجینیئروں نے ایک ’’سکیورٹی پیچ‘‘ بھی جاری کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی مدد سے حملہ آور انتہائی خاموشی سے ہارڈ ویئر جیسے کمپیوٹرز، انٹرنیٹ راؤٹرز اور اسمارٹ فون کو کنٹرول کر سکتے ہیں جب کہ یہ بگ انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ویب سائٹس اور ایپس کو متاثر کرسکتا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ اس وائرس کے علاج کے لیے ایک پیچ جاری کردیا گیا ہے اور اب یہ مینیوفیکچررز اور لینکس آپریٹنگ سسٹم چلانے والی کمپنی پر منحصر ہے کہ وہ متاثرہ سافٹ ویئرز اور آلات کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس پیچ کو جاری کریں۔
اس وائرس سے متعلق گوگل کی ٹیم نے ایک بلاگ میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کس طرح عام طور پر استعمال کیے جانے والے کوڈ کا استحصال کرتے ہوئے کمپیوٹر، انٹرنیٹ راؤٹرز یا ایسی ڈیوائسز سے منسلک دیگر اشیا تک وہاں موجود ہوئے بغیر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں کمپیوٹر کی سیکیورٹی پر تحقیق کرنے والے ماہر کا کہنا ہے کہ یہ کوئی آسمان سے گرنے والی جیسی صورت حال نہیں ہے لیکن یہ سچ ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ اس سے انٹرنیٹ سے مربوط سروسز کو ہیکرز کی جانب سے سسٹم کریش کرنے اور ریموٹ کوڈ سے حملے کا خطرہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …