ہفتہ , 6 مارچ 2021

کینیڈا کے لڑاکا طیاروں کی داعش پر الوداعی بمباری

 

fighter_jet

اوٹاوا: عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف فضائی مہم میں شریک کینیڈا کے ایف 18 لڑاکا طیاروں نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے اور انھوں نے آخری مرتبہ داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ کینیڈا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ کینیڈا کے لڑاکا طیاروں نے عراق کے مغربی شہر فلوجہ کے نواح میں داعش کے ٹھکانوں کو اپنے آخری حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ کینیڈین طیاروں نے گذشتہ اتوار کو اپنی آخری پروازیں کی تھیں۔ کینیڈا کے لبرل وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے گذشتہ سال کے آخر میں برسراقتدار آنے کے بعد آیندہ چند ہفتوں میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم میں شریک اپنے چھے لڑاکا طیاروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ اب کینیڈا شمالی عراق میں کرد ملیشیا کی عسکری تربیت کے لیے اپنے خصوصی دستوں کی تعداد تین گنا کردے گا اور یہ تعداد بڑھا کر 210 کر دی جائے گی۔ کینیڈا کا سی سی-150 ٹی ایندھن بھرنے والا طیارہ پولیرس اور جاسوس طیارہ سی پی 140 آرورا امریکا کی قیادت میں داعش مخالف مہم میں شریک رہے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا، فرانس اور برطانیہ نے نجی طور پر کینیڈا کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے داعش مخالف کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کینیڈا کی سابق کنزرویٹو حکومت نے امریکا کی قیادت میں داعش مخالف جنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ کینیڈا میں اکتوبر میں منعقدہ عام انتخابات میں لبرل پارٹی نے کنزرویٹو پارٹی کو شکست دی تھی اور جسٹن ٹروڈو وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران لڑاکا جیٹ طیاروں کی کینیڈا واپسی اور جنگی مشن کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ ان کی لبرل حکومت ذمہ دارانہ انداز میں انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کرے گی۔ کینیڈا نے 2014 میں مشرق وسطی کے خطے میں مارچ 2016 تک اپنے سی ایف 18 لڑاکا جیٹ بھیجے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے شمالی عراق میں کرد جنگجوں کی تربیت کے لیے خصوصی فورسز سے تعلق رکھنے والے قریبا ستر فوجی بھی بھیجے تھے۔ یہ فوجی ٹرینر وہیں موجود رہیں گے اور اب ان کی تعداد بڑھا کر دو سو دس کی جارہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …