منگل , 2 مارچ 2021

طالبان نے فوج کی کمزوری کو استعمال کیا ہےجسے امریکہ اور نیٹو نے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے

1877764

اقوام متحدہ کی شماریات کے مطابق 2015 شہری آبادی کے جانی نقصان کے حوالے 2009 کے بعدکچھ اتنا اچھا نہیں تھا۔ 3545 افراد مارے گئے اور 7457 زخمی ہوئے۔ اس کل تعداد میں عورتوں اور بچوں کا تناسب 50% تھا۔

کرنل جنرل عبدالہادی خالد نے (جو افغانستان میں نائب وزیر داخلہ تھے) کہا:

653558

"بلاشبہ گذشتہ برس عام شہریوں اور پولیس والوں کی خاص طور پر ایسے لوگوں کی جو سماجی سلامتی کا کام کرتے ہیں، اموات بہت زیادہ تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ اور نیٹو نے 2014 میں افغانستان سے ایک لاکھ چالیس ہزار افراد پر مشتمل فوج نکال لی تھی، بچ رہنے والے ہزار فوجی عسکری کارروائیوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ اس دوران ہماری فوج اپنے طور پر کارروائیاں کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھی۔ فوج کمزور تھی، جنگی جہاز کم تھے ، ٹرانسپورٹ کا فقدان تھا۔ زمین پر کارروائی کے دوران توپیں نہیں تھیں۔

ہماری فوج خاصی حد تک پیشہ ور نہیں تھی۔ اس کے برعکس ان کے مد مقابل خود کو قوی سمجھتے تھے کہ انہوں نے امریکہ اور نیٹو کو نکلنے پر مجبور کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس برس دہشت گردوں نے خود کو فاتح جانا اور فیصلہ کیا کہ وہ کم از کم ملک کے کچھ صوبوں پر قبضہ کر سکتے ہیں اگر مکمل طور پر حکومت کو سرنگوں نہیں کر سکتے اس طرح سے وہ پھر بھی فاتح ہیں۔ چنانچہ طالبان نے ہماری فوج کی کمزوری کو استعمال کیا ہے جسے امریکہ اور نیٹو نے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

ہر طرح کے مجرم، غنڈے، ڈاکو، چور، طالبان، منشیات کے تاجر اکٹھے ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے انتہائی ظالمانہ لائحہ عمل اختیار کیا ہے۔ وہ جنگ کو گاؤں بستیوں تک لے گئے، پرہجوم مقامات پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے لگے۔ ایک ایک دھماکے سے سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ عام آبادی میں زیادہ اموات کی یہی وجہ رہی۔

تاہم لوگ اس غیر عام سال میں بھی ڈٹے رہے۔ وہ اس لیے ڈٹے رہے کہ وہ جنگ کی وجہ جان گئے ہیں۔ وہ جان گئے ہیں کہ وہ کس لیے جنگ کر رہے ہیں اور کس کی حفاظت کر رہے ہیں”۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …