جمعہ , 26 فروری 2021

نامور غیر مسلم شخصیات کے پیغمبر اسلام سے متعلق تاثّرات

1793941

برطانوی ادیب جارج برنارڈ شاء:

"میں نے محمد کے مذہب کی، حیران کن استقامت کی بنا پر ہمیشہ تعظیم کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ واحد مذہب ہے جس میں گہرائی ہے اور یہی چیز لوگوں کے لیے دلکش ثابت ہوئی ہے۔ میں محمد کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کرنا چاہتا ہوں کہ آج جسے یورپ کہتے ہیں وہاں یہ مانا جانے لگے گا۔ قرون وسطٰی میں نفرت یا تصورات کی بنا پر اسلام کو روشنی سے اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایسے لوگوں کے لیے محمد "ضد عیسٰی” بن گئے تھے۔ میں نے اس شاندار شخصیت کی زندگی کے بارے میں پڑھا ہے اور سمجھتا ہوں کہ وہ ایسے ہرگز نہیں تھے۔ انہیں انسانیت کے لیے نجات دہندہ کہا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہےکہ اگر آج کی دنیا کی قیادت کرنے کے لیے کوئی ایسا شخص ہوتا جیسے وہ تھے تو وہ تمام عالمی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتا اور ہم بالآخر خوش بختی اور اتقاق کی فضا میں زندگی بسر کر رہے ہوتے جس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ انیسویں صدی کے کارلائل اور گوئٹے جیسے مفکرین نے محمد کے مذہب کی قابل ذکر اقدار کو تسلیم کیا تھا اور آج بہت سے لوگ اس مذہب کو گلے لگا چکے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ کے معاشرے پر اسلام کے غلبے کا آغاز ہو چکا ہے۔

عظیم جرمن شاعر اور مفکر یوہاں وولف گینگ گوئٹے:

"وہ شاعر نہیں ہیں،ا یک پیغمبر ہیں اور وہ ہمارے پاس قرآن لائے ہیں جو خدائی قوانین کا مجموعہ ہے۔ یہ ایسی کتاب نہیں جسے کسی انسان نے لطف لینے کی خاطر یا مجموعی علم کو بلند کرنے کی خاطر لکھا ہو”۔

برطانوی ادیب، مضمون نگار، مورخ تھامس کارلائل:

"کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ کوئی دروغ گو شخص حیران کن مذہب تخلیق کر ڈالے؟ جو اپنے لیے اینٹوں کا گھر تعمیر نہ کر سکے کیونکہ اسے چونے اور گارے کی خصوصیات کے بارے  میں علم نہیں چنانچہ وہ کچھ بھی تعمیر نہیں کر سکتا ماسوائے تعمیراتی سامان کے ایک ڈھیر کے اور مستزاد یہ کہ وہ بارہ صدیوں تک موجود بھی رہے جس میں بیس کروڑ انسان بس رہے ہوں۔
اس کے ستون گر جاتے اور یہ ایسے منہدم ہو جاتا جیسے تھا ہی نہیں۔ مجھے محکم طور پر علم ہے کہ انسان کو اپنی ذمہ داریوں کے ضمن میں فطرت کے قوانین پر نگاہ رکھنی چاہیے ورنہ وہ اس کے تقاضوں کا جواب نہیں بن سکیں گے۔ اگر ایسے نہ ماننے والوں میں جھوٹ پھیلا دیا جائے، چاہے اس کو ایسے رنگ دیا جائے کہ وہ سچ لگنے لگے ۔۔۔ اور دکھ کی بات یہ ہےکہ لوگوں کو ایسی باتیں بتا کر پوری اقوام اور برادریون کو دھوکا دیا جا رہا ہے”۔

انیسویں صدی کا روسی مفکر اور مضمون نویس، پیوتر چاادائیو:

"محمد ایسے بے سود مدبرین کی نسبت لوگوں کی تعظیم کے کہیں زیادہ مستحق ہیں جو اپنی کسی بھی فکر سے انسانوں کے کسی دکھ کا علاج نہیں کر پائے اور نہ ہی کسی دل کو محکم طور پر قائل کر سکے بلکہ جنہوں نے لوگوں کو تقسیم کر دیا تاکہ وہ اپنی فطرت کے عناصر کے اتحاد سے تکلیف سہتے رہیں”۔

ماہر عربیات، رچرڈ بیل:

"یورپ شدید اضمحلال کی دہلیز پر ہے۔ دیدہ زیب، شاندار ماتھے کے پیچھے شدید ذہنی دباؤ، دیوانگی، خودکشی، روحانی امراض، جنسی بے راہروی، منشیات اور الکوحل کا استعمال، لڑائیاں، زنابالجبر اور بڑھتی ہوئی جنسی امراض پوشیدہ ہیں۔ باہمی پیار اور ایک دسرے پر اعتبار ہوا ہو چکے ہیں۔ سب کے سب موت کے ہیجان انگیز خوف میں مبتلا ہیں۔ خاندانی اقدار ختم ہو چکی ہیں اور خاندان کے لوگوں میں روابط ٹوٹ چکے ہیں۔ حکومت چلانے والے اس حالات سے نکلنے کا راستہ تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ دانشور حلقے خود کو اخلاقی خلاء میں بے بس پاتے ہیں۔ یورپ کے سامنے ایک ہی انتخاب ہے۔ نجات کا واحد راستہ اور یہ راستہ اسلام ہے، دوسرا انتخاب ہے ہی نہیں”

مہاتما گاندھی:
"میں ان میں سے بہترین کے بارے میں جاننا چاہتا تھا جس کی آج لاکھوں کروڑوں دلوں تک رسائی ہے۔ میں اس ضمن میں یقین سے بھی آگے گذر چکا ہوں کہ اسلام ان دنوں تلوار کے زور پر نہیں پھیلا بلکہ اس کی پاکیزگی اور قربانی دینے کا اعلٰی ترین جذبہ اس کے پھیلنے کا موجب بنا ہے۔ پیغمبر نے ان تھک انداز میں اپنا فریضہ سرانجام دیا ، انہیں بہترین دوست اور امتی ملے جو بلاخوف اور اللہ پر حتمی یقین کے ساتھ ان کے دین کے مشن کو لے کر چلے”۔

انگریز مورخ، ایڈورڈ گبّن:

"یہ پرچار نہیں ہے۔ ہماری توجہ کا مرکز ان کے مذہب کی طویل سرگرمیاں بنی ہیں۔ مکہ اور مدینہ میں اس قلموں کی طرح پاک تصور میں ہبہ بھر کمی بیشی نہیں ہوئی ہے۔ راستہ دکھانے والے کے طور پر قرآن کا کردار افریقیوں ، ایشیائیوں اور ترکوں کے لیے کم نہیں ہوگا۔ اس نظریے کے حامی شدومد کے ساتھ ہر طرح کی برگشتگی اور ٹوٹ پھوٹ کے خلاف ، اپنے جذباتی پن، رجائیت پسندی اور فکر میں مائکرون بھر کمی لائے بغیر جی جان سے لڑ رہے ہیں۔
میں قائل ہو کر کہتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمد)صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے نبی ہیں۔
ان کی زندہ تبلیغ، ان کے ماننے والوں کی عقل اور مذہب سے متعلق یک فکری کے سبب جاری و ساری ہے”۔

برازیلی ادیب، پاؤلو کوایلو:

"پیغمبر نے ہمیں قرآن دیا اور ہم پر زندگی میں پانچ فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داری ڈالی۔ اہم ترین توحید، یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ چار اور ۔۔۔دن میں پانچ بار نماز پڑھنا، جب رمضان کا مہینہ ہو تو روزے رکھنا اور ناداروں پر مہربان ہونا ۔۔۔۔ پھر وہ خاموش ہو گیا۔ پیغمبر کو یاد تھا کہ اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ وہ ایک مستعد، برداشت نہ کرنے والا اور گرم خون انسان تھا جو ہمیشہ ماگومیت (محمد) کے دیے گئے قانون کے مطابق جینا چاہتا تھا اور کہتا تھا، میں صرف مکہ دیکھنے کی خواہش کرتا ہوں۔ میں نے ہزار بار سوچا کہ کس طرح صحرا عبور کیا جائے، کیسے اس چوک تک پہنچوں جہاں سنگ اسود ہے جس کے گرد سات بار طواف کرنے کے بعد ہی اسے چومنا ہوگا۔ میں نے ہر بار خیال کیا کہ میرے آگے کتنے زیادہ لوگ ایک دوسرے کو دھکیل رہے ہونگے اور کس طرح میری آواز ایک مشترکہ دعا کے آہنگ کا حصہ بن جائے گی”۔

روسی ادیب، لیو تولستوئی:

"پیغمبر محمد عظیم رہنما تھے۔ انہوں نے برادری کو سچ کی روشنی دکھائی اور یہ ان کی عظمت کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو خون بہانے سے بچایا اور امن قائم کیا۔ انہوں نے ان کے لیے روحانی بالیدگی کا در وا کیا۔ ایسے انسان کی تعظیم کرنا ہر شخص پر فرض ہے”۔

جرمن ادیب، لیون فیختوانگر:

"پیغمبر محمد کے وصال کو اسی برس بیتے تھے کہ مسلمان ریاست عالمی طاقت بن گئی تھی جو ہندوستان کی سرحدوں سے ایشیا اور افریقہ سے ہوتی ہوئی بحیرہ روم تاحتٰی بحر اوقیانوس کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اپنی فتوحات کے اسی برس کے دوران مسلمان بحیرہ روم کی تنگنائے کو عبور کرکے سپین میں "اندلس” جا پہنچے ، انہوں نے سپین کی ریاست ختم کر دی اور تین سو برس تک عیسائیوں پر حکومت کی۔ یہ نئے حاکم اپنے ساتھ ایک بھرپور ثقافت لائے تھے اور انہوں نے سپین کو یورپ کا انتہائی حسین، خوشحال اور آباد ملک بنا ڈالا تھا۔

جرمن سلطنت کے چانسلر، اوٹو بسمارک:

"مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے معاصرین میں شامل نہیں تھا۔ اے محمد، انسانیت نے ایک ہی بار چنی ہوئی شخصیت کو دیکھا تھا، پھر کبھی نہیں دیکھے گی۔ میں انتہائی خشوع سے آپ کے آگے جھکتا ہوں”۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …