پیر , 1 مارچ 2021

بلوچستان: چہروں کی تبدیلی سے کیا فائدہ؟

بلوچستان میں وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی اور ڈاکٹر مالک بلوچ کی جگہ نواب ثناء اللہ زہری کا وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنا چہروں کی تبدیلی کا وہ تسلسل ہے جسے صوبے کے عوام کئی عرصے سے دیکھتے آئے ہیں اس لیے اس تبدیلی کو مخصوص سیاسی حلقوں کے سوا عوامی سطح پر کوئی خاص توجہ نہ مل سکی۔

اپریل 2013 میں الیکشن مہم کے دوران نواب ثناء اللہ زہری کے قافلے پر خضدار کے علاقے زہری میں ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ان کے بیٹے سکندر زہری، بھائی مہراللہ زہری اور بھتیجے میر زیب زہری سمیت متعدد افراد جان سے گئے جس کی ذمہ داری 2002 میں بننے والی علیحدگی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی، جس کے متعلق نواب ثناء اللہ زہری کا ہی دعویٰ ہے کہ اس تنظیم کو مرحوم نواب خیر بخش مری کے لندن میں مقیم صاحبزادے نوابزادہ حیربیار مری چلا رہے ہیں۔

زہری واقے کے بعد نواب ثناء اللہ زہری نے بظاہر جذبات میں آکر بلوچستان کے نمایاں قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری، ان کے صاحبزادے حیر بیار مری، سردار عطاء اللہ مینگل، ان کے صاحبزادوں اختر مینگل و جاوید مینگل، اور مکران کی سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کروایا، لیکن حال ہی میں نواب ثناء اللہ زہری نے یہ کہہ کر وہ ایف آئی آر خود ہی واپس لے لی کہ ان کی جانب سے قبائلی سطح پر کی جانے والی تحقیقات میں ایسی کوئی بات سامنے نہ آسکی۔

11 مئی 2013 کے انتخابات کے بعد جب بلوچستان کے حکومت کی تشکیل کا مرحلہ آیا تو صوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر کی حیثیت سے نواب ثناء اللہ زہری ہی وزارتِ اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جانے لگے، لیکن 2 جون کو سیاحتی مقام مری میں ہونے والے معاہدے کے تحت صوبائی اسمبلی کی 65 میں صرف 8 نشستیں حاصل کرنے والی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو ڈھائی سال کے لیے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان منتخب کیا گیا، جنہوں نے بعدِ ازاں پشتونخوا میپ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے مخلوط حکومت بنائی۔

صوبے کے اکثر سیاسی حلقوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے اس فیصلے کو صوبے کی حالات سے ہم آہنگ قرار دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب نواب ثناء اللہ زہری کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کے قتل کی ایف آئی آر صوبے کے اہم قوم پرست رہنماؤں کے خلاف درج کی تھی، اس وقت اگر نواب ثناء اللہ زہری کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا جاتا تو یہ کشیدگی خون خرابے میں بدل سکتی تھی۔

دوسری جانب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نامزد کرنا بھی مذکورہ کشیدہ صورتحال میں کمی کا سبب بنا کیونکہ انہوں نے اپنے دور میں نواب ثناء اللہ زہری کی مرضی کے خلاف بہت سے فیصلے کیے جس کی شکایت وہ اکثر کرتے رہے اور اس بات کو لے کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے نہ صرف کئی دنوں تک بلوچستان اسمبلی کی کارروائیوں کا بائیکاٹ بھی کیا بلکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تک یہ شکایت بھی پہنچائی گئی کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ن لیگ کے وزراء کو نظر انداز کرکے انہیں بے اختیار بنا رہے ہیں، لیکن نواز شریف کی جانب سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے سبب وہ چپ کر کے بیٹھ گئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مستعفی

مری معاہدے کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی مدت 4 دسمبر کو ختم ہونی تھی لیکن مقررہ وقت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کرنے پر ان چہ مگوئیوں کو تقویت ملنے لگی کہ شاید ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع ملے گی، اور اس بات کی توثیق نہ صرف بی بی سی جیسے معتبر ادارے نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں بھی کی، بلکہ 7 دسمبر کو صوبے کے ایک مؤقر روزنامے نے تو مری معاہدے کی معطلی اور میاں نواز شریف کی جانب سے ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے فیصلے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس خبر کو اپنی سپر لیڈ اسٹوری کے طور پر شائع کیا۔

خبر میں جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کے کور کمانڈر کی عہدے سے ریٹائرمنٹ کے وقت اس تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا جس کے تحت دس منٹ تک وہ صرف ڈاکٹر مالک بلوچ کی صلاحیتوں اور کارکردگی کی تعریف کرتے رہے، لیکن غیر متوقع طور پر دس دسمبر کو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد میں صوبے کے متعلق ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد مری معاہدے پر عمل کرتے ہوئے نواب ثناء اللہ زہری کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا، جنہوں نے 24 دسمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

حکومت کو یہ اشارے مل رہے تھے کہ مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے مشیروں اور قریبی ساتھیوں نے یہ بات بھی گوش گزار کروائی تھی کہ اگر مری معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو پنجاب کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دوسرے بڑے وجود کی حامل صوبے بلوچستان میں پارٹی کا صفایا ہوسکتا ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخواہ میں ویسے بھی پی ٹی آئی اور پی پی پی لیڈ کر رہے ہیں اس لیے میاں نواز شریف نے بلوچستان میں وزیرِ اعلیٰ کی تبدیل کا فیصلہ کیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی صوبے کے حالات پر کس قدر اثر انداز ہوگی؟ بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے اس دعوے کے حق میں وہ الیکشن کے نام پر ہونے والی مبینہ سلیکشن کی مثال بھی دیتے ہیں جس کے تحت جیت کا اعلان ہونے کے باوجود بہت سے امیدواروں کو ہار کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور ہارنے والوں کو جیت کا سہرا باندھا جاتا ہے۔

بلوچستان کے سلگتے مسائل اور عسکریت پسندی

کہا جاتا ہے کہ بلوچستان سے گزرنے والی حالیہ پاک چین اقتصادی راہداری، گوادر پراجیکٹ اور صوبے کے معدنی وسائل نے اس کی سیاسی و اقتصادی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے، اس لیے اسٹیبلشمنٹ کا صوبے کے معاملات میں عمل دخل بھی زیادہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کی سیاسی حکومتیں محض انتظامی امور تک محدود ہو کر اہم فیصلے کرنے سے محروم رہ جائیں گی۔ اس کی مثال ڈاکٹر مالک بلوچ کا دور بھی تھا جس میں وہ صوبے کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے چاغی میں چینی کمپنی کے زیر انتظام چلنے والے سونا اور کاپر پیدا کرنے والے منصوبے سیندک پراجیکٹ سے صوبے کو کوئی خاص فائدہ نہ ملنے کی شکایت کھلے عام کرتے رہے۔

لہٰذا ایسے حالات میں حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی ثابت ہوگی جس سے صوبے کے عوام کے زندگیوں پر کسی بھی قسم کے دیرپا اثرات کی توقع محض وقت کا ضیاع ہوگا، اور یہی صورتحال پارلیمانی سیاست سے لوگوں کی اکثریت کا اعتماد ختم کر کے انہیں ان علیحدگی پسندوں کی باتوں پر غور کرنے کے لیے مجبور کرے گی جو پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ کہہ کر صوبے کے مسائل کا حل مسلح مزاحمت کو قرار دیتے ہیں۔

اس لیے اب فیصلہ حکمران اشرافیہ کو ہی کرنا ہے کہ وہ بلوچستان کو معاشی و سیکیورٹی کے نقطہء نظر سے دیکتے رہیں گے یا سیاسی کھڑکی کھول کر عوام کی زندگیاں بہتر بنانے کی طرف بھی توجہ دیں گے.

یہ بھی دیکھیں

یہودیوں سے وفاداری کے ثمرات ! شدید خسارے کا پھندا بن سلمان کے گلے میں

سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود …