اتوار , 28 فروری 2021

مصرسے دنیا کا 5 ہزار سال پرانا لباس دریافت

455025-dress-1455886584-931-640x480

لندن: مصر میں ایک قدیم مقبرے سے دریافت ہونے والے لباس کو 65 سال بعد دنیا کا قدیم ترین لباس قرار دیا گیا ہے جو 5 سے ساڑھے پانچ ہزار سال قدیم ہے جب کہ اس کی تصدیق ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے کی جاچکی ہے۔
وی شکل کی یہ شرٹ 1977 میں دریافت ہوئی تھی جسے ترخان لباس کہا گیا ہے، یہ لباس مصر میں پہلی سلطنت کی ابتدا سے تعلق رکھتا ہے یا پھر نقادہ کے تیسرے عہد میں بنایا گیا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق لباس 3482 سے 3102 قبل مسیح پرانا ہے اور اسے دنیا کا سب سے پرانا بُنا گیا لباس کہا جاسکتا ہے جسے بہت احتیاط سے سلائی کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جو قدیم لباس ملے ہیں انہیں چادر کی طرح بدن پر لپیٹا جاتا تھا لیکن اس لباس کو کاٹ کر سیا گیا ہے۔
دریافت پرلندن میں واقع مصری تہذیب کے پیٹری میوزیم کے ماہرین نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے جس کے مطابق قدیم پارچے اور لباس ہزاروں سال گزرنے کے بعد ریشہ ریشہ ہوکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن یہ لباس مکمل اور بہترین حالت میں محفوظ ہے جو ایک نایاب دریافت ہے۔ لباس پر کچھ علامات ہیں جنہیں سمجھا نہیں گیا لیکن شاید یہ پہننے والی کی مالی حیثیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس لباس کو 1912 میں قاہرہ سے 31 کلومیٹر دور دریافت کیا گیا تھا اور 1977 میں اسے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم لندن لایا گیا تھا لیکن اب اس کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ اور مزید تحقیقات کی گئی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

لاک ڈاؤن سے پریشان ہیں تو اپنی چیخ آئس لینڈ تک پہنچائیں!

آئس لینڈ سیاحوں کے لیے اپنی تشہیر کرتا رہتا ہے اور اب اسی مہم کے …