پیر , 26 جون 2017

مقتدیٰ الصدر کی زندگی کا جائزہ

نام: مقتدیٰ الصدر
والد: محمد مقتدیٰ الصدر
(عراق میں کوئی سرکاری عہدہ نہ رکھنے کے باوجود عراق کی معّزز اور موثّر ترین مذہبی اور سیاسی شخصیت) جن کو 1999ء فوجی آمر صدام حسین نے شہید کرا دیا۔
پیدائش: 12 اگست 1973ء
سیاسی پارٹی: صدر تحریک، لیڈر سرایہ السلام (سابقہ مہدیؑ آرمی)
تعلق: لبنان کے علاقے جبل عمل کے مشہور و معروف خاندان الصدر سے، شہید باقر الصدر، مقتدیٰ الصدر کے سُسر تھے۔ آپ کو سید کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
خاندان: آپ عراق کی مشہور شیعہ مذہبی شخصیت آیتہ اللہ محمد صادق الصدر کے چوتھے فرزند ہیں اور شہید آیتہ اللہ محمد باقر الصدر کے داماد ہیں۔
سیاسی زندگی: مقتدیٰ الصدر کو 2003ء میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کئی بار عراق میں جمہوری ریاست قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
آپ کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ بغداد کو صدام کے دور میں صدام کا شہر کہا جاتا تھا لیکن صدام کے جانے کے بعد بغداد الصدر کے شہر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
عراق جنگ: 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کےخاتمے کے بعد امریکہ کی سربراہی میں قائم ہونے والے حکومتی اتحاد کے مقابلے میں مقتدیٰ الصدر ایک بڑے حزب مخالف کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ مقتدیٰ الصدر نے ایک مغربی ٹی وی چینل ’’ساٹھ منٹ‘‘ کے اینکر باب سائمن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’صدام چھوٹا سانپ تھا جبکہ امریکہ بڑا سانپ ہے۔‘‘شاید اسی وجہ سے مغربی میڈیا کی طرف سے آپ کو امریکہ مخالف اور بنیاد پرست کا لقب دیا گیا۔
2003ء میں ہی انہوں نے عراقی عوام کومال غنیمت میں سے خمس ادا کرنے کے فتوی پر عمل کرنے کی ترغیب دی جس سے عراق کے غریب عوام میں ان کو زبردست پزیرائی حاصل ہوئی۔
2004ء: مقتدیٰ الصدر اپنے مختلف انٹرویوز اور بیانات میں مسلسل یہ بات کہتے رہے کہ امریکہ اور اس کی تمام اتحادی افواج کو فوراً عراق سے نکل جانا چاہیئے اور اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی فوجی دستوں کو بھی عراق سے نکل جانا ہو گا اس کے علاوہ صدام کی بعث پارٹی اور علوی حکومت کے علاوہ عراقی میں قومی حکومت قائم ہونی چاہیئے۔
اس دوران صدر کی حامی ملیشیا اور امریکی اتحاد کے زیر نگرانی قائم کردہ عراقی حکومت کے درمیان متعدد بار مسلح جھڑپیں ہوئیں جس میں مقتدیٰ الصدر کو بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور عراق کے بہت سے شہروں میں ان کو کنٹرول حاصل ہو گیا۔
2005ء: عراق میں بالعموم مذہبی شخصیات کے سیاست میں حصہ لینے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لہٰذا مقتدیٰ الصدر نے عراق کے 2005ء کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، لیکن انہوں نے عراقی اتحادی جماعت (UIA) جوکہ السیستانی کی مقبول جماعت ہے کو سپورٹ کیا۔ 26 اگست 2005ء کو مقتدیٰ الصدر کی حمایت میں ایک لاکھ افراد نے جلوس نکالا۔
2006ء: 25 مارچ 2006ء کو وہ ایک مارٹر حملے میں بال بال بچے۔
2007ء: 13 فروری 2007 کو امریکی میڈیا نے جھوٹا پراپیگنڈہ کیا کہ مقتدیٰ الصدر متوقع امریکی آپریشن کی وجہ سے عراق
سے چلے گئے ہیں۔ جس کی مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے سختی سے تردید کی، 30 مارچ کو اپنے ایک پیغام میں مقتدیٰ الصدر نے امریکی افواج کے عراق سے انخلا کے بارے میں اپنے موقف کو دوبارہ دُہرایا اور 9 اپریل کو امریکہ مخالف تحریک کے آغاز کااعلان کر دیا جس کو عوام کی طرف سے زبردست پزیرائی حاصل ہوئی۔
8 اپریل 2007ء: مقتدیٰ الصدر نےعراقی حکومت اورعراقی فوج کوامریکیوں کےساتھ تعاون نہ کرنے پرزور دیا۔
25 اپریل 2007 بغداد میں سنی علاقوں کے گرد ’’آزمیہ دیوار‘‘ قائم کرنے پر مقتدیٰ الصدر نے انتہائی سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اسے امریکیوں کی بُری خواہش، عراق کو تقسیم کرنے کی سازش اور سنی شیعہ اتحاد کو ختم کرنے کی بھونڈی کوشش قرار دیا۔
2008ء: مارچ 2008ء میں صدر تحریک نے موصل اور بصرہ کی جنگ کے دوران ایک قومی تحریک کا اعلان کیا جس میں مہدی آرمی کے فوجیوں کی رہائی کامطالبہ کیا گیا۔
2009ء: اسرائیل کے غزہ پر فلسطینیوں پر حملے کے بعد مقتدیٰ الصدر نے اعلان کیا کہ وہ اس کا بدلہ لیں گے اور امریکیوں کو اسرائیل کی حمایت کی سزا دی جائے گی۔
2010ء: ایک پریس کانفرنس کے دوران مقتدیٰ الصدر نے عراقیوں کو 2010ء کے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کی تاکید کی اور ساتھ ہی کہا کہ وہ ان قوتوں کی حمایت کریں جو امریکہ کے عراق سے انخلاء کے حق میں ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو خبردار بھی کیا کہ ان انتخابات میں امریکہ کی کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
2011ء: 5 جنوری 2011ء کو مقتدیٰ الصدر عراق کے شہر نجف میں واپس آ گئے جہاں انہوں نے عراق کی نئی حکومت میں بھرپور کردار
ادا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ نجف میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کو عراق کا مشترکہ دشمن قرار دیا۔ ان کے اس موقف کو عراق بھر میں زبردست پزیرائی حاصل ہوئی۔
2011ء کے آخر میں امریکی انخلاء کی تحریک کے نتیجے میں امریکہ نے عراق سے نکلنے کا اعلان کر دیا اس کے علاوہ نئے انتخابات میں عراق کی پارلیمنٹ میں مقتدیٰ الصدر کے حامی بلاک کی پوزیشن بہت مستحکم ہو گئی یہاں تک کہ عراقی وزیر اعظم نورالمالکی مقتدیٰ الصدر کی حمایت کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے تھے۔
امریکی انخلا کے بعد: عراق سے امریکی فوج کے انخلا بعد بھی مقتدی الصدر عراق کی امریکی مخالف مزاحمتی تحریک میں قائدانہ کردار کی وجہ سے عراق کی موثر ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت شمار کیے جاتےہیں۔
2012ء میں انہوں نے عراق کے اندر سنی اور شیعہ عوام کے درمیان اتحاد اور امن قائم رکھنے کے لیے کوششیں تیز کر دیں جس کی وجہ سے انہیں سنی، شیعہ اتحاد کے حوالے سے بھی بہت معتبر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
2014ء میں انہوں نے سیاسی سرگرمیاں ترک کرنے کا اعلان کر دیا اور اپنے خاندان کی روایات کے مطابق علمی اور دینی خدمات پر ساری توجہ مرکوز کرنے کا اعلان کیا، ساتھ ہی تمام سیاسی تنظیموں کی تحلیل کا اعلان کر دیا۔
2014ء کے اواخر میں عراق کے اندر اسلامی مقدسات کی حفاظت کے لیے اور ان مقدس مقامات کو داعش کی دہشت گردی سے بچانے کے لیے ’’امن برگیڈز‘‘ تیار کیں۔ عراقی مقدسات کی حفاظت
کے علاوہ ان ’’امن برگیڈز‘‘ نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کئی عملی آپریشن بھی کیے۔
2016ء تا حال: 26 فروری 2016ء کو مقتدیٰ الصدر نے لاکھوں افراد کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے تحریر اسکوائر میں اکٹھا کیا اور عراقی حکومت کی بدعنوانیوں اور اصلاحات پر عملدر آمد ناکامی پر زبردست احتجاج کیا۔ انہوں نے عوام سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنے احتجاج کی آواز کو اتنا بلند کرو کہ یہ بدعنوان لوگ آپ سے خوفزدہ ہو جائیں۔‘‘
18 مارچ 2016ء کو مقتدی الصدر کے حامیوں نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایوان اقتدار اور سفارتی دفاتر کے سامنے حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف دھرنے کا آغاز کیا اور عراق کے ایوان اقتدار کو بدعنوانیوں کا گڑھ قرار دیا۔
27 مارچ 2016ء مقتدیٰ الصدر بنفس نفیس دھرنے میں شام ہونے کے لیے تشریف لائے اور دھرنے کے شرکاء کو پُرامن رہنے کی تاکید کی۔ مقتدیٰ الصدر کی دھرنے میں شرکت کی آمد کے موقع پر عراقی ایوان اقتدار کی حفاظت پر مامور سیکورٹی کے انچارج (عراقی فوج کے جنرل) نے مقتدیٰ الصدر کو دھرنے میں شرکت پر خوش آمدید کہا اور ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیا۔

یہ بھی دیکھیں

یمن میں آگ کس نے لگائی ؟

 (میمونہ حسین) اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے، مگر دُنیا بھر کے مسلم ممالک ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے