ہفتہ , 6 مارچ 2021

مسوڑھوں کی سوزش

449161-germsdoctor-1455129259-623-640x480

ہمارا قدرتی مدافعتی نظام مختلف بیماریاں پھیلانے والے جراثیم سے مسلسل لڑتا رہتا ہے اور اگر یہ اس میں ناکام ہو جائے تو ہم بیمار ہوجاتے ہیں۔ یوں تو پورے جسم کی صفائی کا خیال رکھنا ضروری ہے، لیکن دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی نہایت ضروری ہے۔
دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت و صفائی کا خیال نہ رکھنے سے جہاں ہم کئی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں، وہیں ہماری ظاہری شخصیت پر بھی اس کا برا اثر پڑتا ہے۔ منہ کے اندرونی حصے کی مختلف بیماریوں میں دانتوں کا کم زور ہو جانا، کیڑا لگنا، دانتوں کا ٹیڑھا ہو جانا اور مسوڑھوں کا انفیکشن عام ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی زیادہ تر بیماریوں کی علامات فوراً ظاہر نہیں ہوتیں، اور شدید تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔
منہ کے ذریعے خوراک ہمارے معدے تک پہنچتی ہے اور دانت خوراک کو جزوِ بدن بنانے کے لیے ضروری عمل یعنی اسے چبانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی باقاعدگی سے صفائی کرنا اور ان کی صحت کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔
دانتوں کے گرد موجود جھلی کی سوزش ایک عام مسئلہ ہے جس کا بروقت علاج نہ کروانے سے کئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ یہ مسئلہ دانتوں پر مخصوص قسم کے بیکٹیریا کے حملے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا مسوڑھوں کے خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اس کی علامات میں مسوڑھوں سے خون بہنا، منہ سے بدبو آنا اور دانتوں میں ٹھنڈا گرم لگنا، ان کے درمیان خلا اور مسوڑھوں میں پیپ بھر جانا شامل ہیں۔ یہ جراثیم دانتوں کی حفاظتی ہڈیوں کو بھی کم زور بنا دیتے ہیں جس سے ان کے گرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ دانتوں کی جھلی کی سوزش کی وجہ سے بعض اوقات سانس لینے میں دشواری اور اسی سبب جوڑوں کے درد کی شکایت بھی لاحق ہوسکتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق عام طور پر مسوڑھوں سے معمولی خون آنے پر اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے، لیکن یہ عمل خطرناک بیکٹیریا کو پنپنے کا موقع دے سکتا ہے، جس سے تمام دانت تیزی سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ مسوڑھے سے خون آنا اس میں سوزش کی علامت ہے جس کا فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔
عام طور پر معالج ایسے مریض کے دانتوں پر موجود بیکٹیریا کی تہ اور دانت کی حفاظتی جھلی کی صفائی کر دیتے ہیں، لیکن بیماری کی شدت کی صورت میں سرجری بھی کی جاسکتی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کے انفیکشن کے باعث ہمارے جسم کے لیے دیگر طبی مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ منہ کی صفائی کا خیال نہ رکھنے سے مسوڑھوں کی سُوجن کے ساتھ اس کے ریشوں کو بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ اسے ہم طبی زبان میں پائیریا کہتے ہیں۔
یہ مسئلہ اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب مسوڑھے بہت زیادہ خراب ہو جاتے ہیں۔ اِس کی چند علامات میں دانتوں کا اپنی جگہ سے ہلنا، دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جانا اور منہ سے بدبُو آنا شامل ہیں۔ دانتوں اور مسوڑھوں میں فاصلہ یا خلا پیدا ہونے سے نقصان پہنچانے والے بیکٹیریاز کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے اور یہ ان کی جڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں مسوڑھوں کی سوجن بڑھ جاتی ہے اور شدید درد ہوتا ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کو انگلی سے چھونے پر بھی مریض کو بہت زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ مسوڑھوں کی بیماری کا سبب دانتوں کی صفائی نہ کرنا، ایسی دواؤں کا استعمال جن سے مناعتی نظام کم زور ہو جائے، ذہنی دباؤ، ذیابیطس، شراب اور تمباکو نوشی، عورتوں میں حمل کی وجہ سے ہارمونز میں تبدیلیاں بھی ہیں۔ طبی تحقیق بتاتی ہے کہ مُنہ کی بیماریاں جسم کے باقی حصوں پر بھی بُرا اثر ڈالتی ہیں۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی ہمیں کئی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ دن میں دو سے تین بار دانتوں کو ٹوتھ برش سے صاف کرنے اور کھانے پینے کے بعد کلی کرنے سے انفیکشن کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تین سے چار ماہ بعد ٹوتھ برش ضرور تبدیل کرنا چاہیے۔ دانتوں کی بہتر حفاظت برشنگ اور فلاسنگ سے ممکن ہے، لیکن ان کا صحیح طریقہ جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے کسی ماہر ڈینٹسٹ کی مدد لی جاسکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بیماری میں حتیٰ الامکان دوا سے پرہیز کیجئے!

اسلامی متون میں بکثرت ایسی احادیث اور روایات موجود ہیں جن میں یہ ہدایت کی …