جمعہ , 26 فروری 2021

ایف پی سی سی آئی نے ٹیکسوں اور ریٹ میں کمی کا مطالبہ کر دیا

455350-FPCCIlogonew-1455912553-369-640x480

کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عبدالرؤف عالم نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کارپوریٹ ٹیکس کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے، پاکستان میں کارپوریٹ سیکٹر مقامی، صوبائی اور وفاقی سطح کے تقریباً 52 اقسام کے ٹیکس ادا کرتا ہے جو کاروبار آسان بنانے کے عمل کو خراب کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے، ٹیکسوں کی شرح بہت زیادہ ہونے کے باوجود ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب کم ہے جوٹیکس کے غیرمساویانہ نظام کا عکاس ہے۔
ورلڈ بینک کی گزشتہ سال کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسوں کی بلند شرح کاروبارکے لیے پریشان کن ہے، پاکستان میں ٹیکس نیٹ بہت محدود اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بہت کم ہے جو ہمیشہ ٹیکسوں کے دباؤکا شکار رہتے ہیں۔ انہوں نے سال 2015 میں مختلف ملکوں میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 33 فیصد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں27، سری لنکا28، ملائیشیا 25 اور ایشیا میں کارپوریٹ ٹیکس کی اوسط شرح23 جبکہ عالمی سطح پر24 فیصد ہے، ملک میں بلواسط ٹیکسوں اور جی ایس ٹی کی صورتحال بھی یہی ہے۔
عبدالرؤف عالم نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے براہ راست ٹیکسوں کا شیئر زیادہ اور بلواسطہ ٹیکسوں کا حصہ کم کرنے پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام افسوسناک ہے کیونکہ اس کے تحت ٹیکس کا بوجھ کم آمدن طبقے پر پڑتا ہے، ایف پی سی سی آئی کا موقف بالکل واضح ہے کہ ذریعہ آمدنی سے قطع نظر جو جتنا زیادہ کما رہا ہے اسے اتنا زیادہ ٹیکس دینا چاہیے، بہرحال حکومت اورایف پی سی سی آئی دونوں ٹیکس سسٹم میں بہتری لانے پرمتفق ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ انہوں نے وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار کے سا تھ حالیہ ملاقات میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا۔ وفاقی وزیر خزانہ کوسراہتے ہوئے عبدالرؤف عالم نے کہا کہ انھوںنے ملکی معیشت کی بہتری اور خوشحالی کے لیے ایف پی سی سی آئی کے ساتھ مل کر مالیاتی پالیسی اور ٹیکس سسٹم میں خرابیوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
صدرایف پی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے حوالے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بہترین ملک بن گیا ہے لیکن انہوں نے کارپوریٹ ٹیکس کی زائد شرح پر تشویش کااظہار کرتے ہو ئے کہا کہ یہ سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزا نہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں زیادہ شرح ٹیکس کی وجہ سے سرمایہ کاری پر منافع کی شرح کم ہو گی۔انہوں نے حکومت پر زوردیاکہ وہ ملک میں کارپوریٹ ٹیکسوں کی شرح کو مناسب اور عالمی اوسط شرح کے مطابق کرے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت نے تیل و گیس کی پیداوار کی ریئل ٹائم نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے شفافیت کے مطالبات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت …