بدھ , 22 نومبر 2017

آیت اللہ شیخ نمر باقر امین النمرشہید کی زندگی کامختصر جائزہ

تاریخ پیدائش: 21 جون 1959ء
جائے پیدائش: العوامیہ۔صوبہ القطیف۔سعودی عرب
تاریخ شہادت: 2 جنوری 2016ء
شریک حیات: منیٰ جابر الشریاوی(متوفیہ 2012ء)
بچے: شیخ نمر النمر کے4 بچے ہیں ایک بیٹا اورتین بیٹیاں۔بیٹا علی نمر النمر17 سال کی عمر میں گرفتار کیےگئے اورانہیں سزائے موت سنادگئی جوکسی بھی وقت عمل درآمد ہوسکتی ہے۔
شیخ نمر باقرالنمر کاتعلق القطیف کےنامور گھرانے سےہے جس نےکئی نامور علماء دین کومعرض وجود میں لایا،جیسا کہ آیت اللہ شیخ محمد ناصر آل نمر، نیز آل نمر خاندان نےکئی معروف خطباء کوبھی جنم دیا جیسا کہ شیخ نمر النمر کےدادا حضور حاجی علی بن ناصرآل نمر۔
تعلیم: شیخ باقر النمر نےابتدائی تعلیم العوامیہ شہر میں ہی حاصل کی۔
عملی زندگی:
1980ء میں شیخ نمر باقر النمر تعلیم حاصل کرنےکےلیے ایران چلےجاتے ہیں اور تہران آیت اللہ العظمیٰ سید محمد تقی حسینی مدرسی کےہاتھوں قائم ہونے والی حوزہ الامام القائم(عج) سےمنسلک ہوجاتے ہیں، یہ حوزہ دس سال بعد شام منتقل ہوجاتا ہے،جس کی وجہ سے شیخ نمر بھی شام چلے جاتے ہیں۔شیخ باقر النمر علمی رتبہ مجتہد حاصل کرلیتے ہیں اوران سےکئی فاضل علماء علم کےفیض سےفیض یاب ہوچکےہیں۔
شیخ نمرباقر النمر کئی سالوں تک ایران اورشام میں حوزہ الامام القائم(عج) کےانتظامی امور سنبھال چکے ہیں۔شیخ نمر باقرالنمر سعودی نظام اورآل سعود کےسخت مخالف تھے اورآل سعود کےبادشاہوں اورشہزادوں کوبلاخوف وجھجک سعودی عرب میں ہوتےہیں تنقید کانشانہ بناتے تھے۔
شیخ نمرباقر النمرکئی مرتبہ گرفتار کیےگئے ہیں، مئی2006ء میں بحرین سےواپس آتے ہوئے انہیں سعودی عرب میں داخل ہوتے ہیں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونےسےقبل شیخ نمبر کاکہنا تھاکہ ’’مجھےیقین ہےکہ میری گفتاری یامیراقتل ہونا تحریک کاسبب بنیں گے‘‘۔مارچ 2009ء میں البقیع میں شیعہ زائرین کےخلاف ہونےوالے تشدد کےخلاف شیخ النمر نےاحتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے سعودی نظام کوشدید تنقید کانشانہ بنایا اورشیعہ اکثریت والاسعودی عرب کےمشرقی حصے کی علیحدگی کامطالبہ کردیاجس کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا۔
26 جون 2012ء میں سعودی ولی عہد اوروزیرداخلہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کی وفات پانےکے 10 دن بعد شیخ نمرباقرالنمر نے القطیف میں اپنے منبر پرکھڑے ہوکر نایف بن عبدالعزیز کی وفات پراطمینان کااظہار کرتے ہوئے نایف کوظالم اورجابرقرار دیا اورنئے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کوبھی تنقید کانشانہ بنایا۔ان کایہ خطبہ انتہائی مشہور ہے،مگر یہی خطبہ بعد میں ان کےلیے جان لیوا ثابت ہوا۔
اس خطبے کےبعد 8جولائی 2012ء میں انہیں پراسرار طور پرگرفتارکیا گیا ،گرفتاری ہونےسےقبل انہیں گولیوں کانشانہ بھی بنایا گیا ان کےبھائی محمد باقر النمر کاکہنا ہےکہ جائےگرفتاری پر شیخ نمر کی گاڑی دیوار سےٹکرائی ہوئی تھی اورگاڑی کے باہر خون کےداغ پڑےتھے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ انہیں گاڑی سے نکال اُن پرگولیاں چلائی گئیں۔
گرفتاری کےبعد 25 مارچ 2013 میں شیخ نمر کوعدالت میں پیش کیا گیا اور15 اکتوبر 2014ء میں موت کی سزا سنائی گئی۔ 2 جنوری 2016ء میں شیخ نمر باقر النمر کودیگر 46 افراد کےساتھ سزائے موت دےدی گئی اوراس حوالےسے سعودی وزارت داخلہ نے باقاعدہ طورپر بیان بھی جاری کیا تھا۔
شیخ نمر باقر النمر کی سزائے موت پرعالمی ردعمل:
اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری بان کی مون نے سزائے مون سنانے پرسعودی عرب سےسزا واپس لینےکامطالبہ کیا۔
یورپی یونین: یورپی یونین کی وزیر خارجہ فیڈپریکا موگینی نے نمر باقر النمر کے اعدام پرتشویش کا اظہار کیا اورخدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام کی وجہ سے علاقے میں فرقہ واریت پھیل سکتی ہے۔
امارات:اماراتی حکام نےسعودی عرب کےاقدام کی تائید کی۔
امریکہ: تشویہ کااظہار کرتے ہوئے سعودی عرب سےانسانی حقوق کااحترام کرنےکامطالبہ کیا۔
ایران: آیت اللہ علی خامنہ ای نےسعودی اقدام کی بھرپور مذمت کی اورکہا کہ سعودی حکمران الٰہی انتقام سےنہیں بچ پائیں گے۔
بحرین:بحرینی عوام نے سعودی اقدام کےخلاف احتجاج کرتےہوئے مظاہرہ کیا جبکہ بحرینی نظام نےسعودی نظام کی تائید کی۔
عراق: نوری المالکی،آیت اللہ سیستانی،حیدرالعبادی اورعراقی دارالافتاد(سنی) نے سعودی اقدام کی مذمت کی۔
فرانس: شیخ نمر کےاعدام کےبعد فرانس نےعلاقے میں فرقہ وارانہ فسادات سےخبردار کیا۔
فلسطین: ’’پاپولرفرنٹ فاردی لیبریشن آف فلسطین‘‘ سعودی اقدام کی مذمت کی اورکہا کہ سعودی عرب مذہبی فسادات کوہوا دےرہا ہے۔
حزب اللہ:سید حسن نصراللہ نےشیخ نمر کےاعدام پرسعودی عرب کوشدید تنقید کانشانہ بنایا۔
مصر: جامعہ ازہر نےسعودی اقدام کی تائید کی۔
یمن:حوثیوں نےسعودی اقدام کی مذمت کرتےہوئے آل سعود کومجرم قرار دیا۔

یہ بھی دیکھیں

ٹویٹر پر ٹرمپ کے ٹویٹس

ٹویٹر پر ٹرمپ کے ٹویٹس