اتوار , 7 مارچ 2021

شدید ترین ال نینیو سے بھوک اور بیماری کے خدشات

151217133926__87258037_c0268980-el_nino_sea_temperatures_october_2015-spl

ال نینیو کے سبب سنہ 2015 گرم ترین سال رہا اور سنہ 2016 پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے
بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اب تک ریکارڈ کیے جانے والے شدید ترین ال نینیو کی وجہ سے سنہ 2016 میں کروڑوں افراد بھوک اور بیماری کے خطرے سے دو چار ہو سکتے ہیں۔
موسم میں تبدیلی کی وجہ سے بعض علاقوں میں خشک سالی اور بعض علاقوں میں سیلاب میں اضافہ ہو جائے گا۔
افریقہ کے بعض علاقوں میں خوراک کی کمی فروری میں شدید ہوگی جبکہ آنے والے چھ مہینوں کے دوران جزائر غرب الہند اور وسطی و جنوبی امریکی علاقے بھی اس سے متاثر ہو سکتےہیں۔
ال نینیو کے تحت کئی کئی سالوں بعد وقفے وقفے سے آنے والی موسمی تبدیلی عالمی حدت میں اضافہ کرتی ہے اور موسم کے مزاج کو بگاڑ دیتی ہے اور اسی کے سبب سنہ 2015 آج تک کا ریکارڈ شدہ سب سے گرم سال رہا۔
ریڈینگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نک کلنگامین نے کہا: ’بعض حساب سے یہ اب تک کا شدید ترین ال نینیو تھا اور یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ آپ اسے کس طرح جانچتے ہیں۔

150907161608_el_nino_climate__640x360_bbc_nocredit

موسم کے پیٹرن میں تبدیلی کے سبب بارش اور سیلاب میں اضافہ نظر آئے گا
’بہت سے خط استوائی ممالک میں ہم نے بارش میں 20 سے 30 فی صد کی کمی دیکھی۔ انڈونیشیا میں قحط سالی رہی اور بھارتی مون سون معمول سے 15 فی صد کم رہا اور آسٹریلیا اور برازیل کے لیے کم مونس ون کی پیش گوئی ہے۔‘
امدادی اداروں کا کہنا ہے ایسے میں جبکہ کہ سیلاب اور خشک سالی دونوں ساتھ ہو تو اس کے اثرات خاطر خواہ اور پریشان کن ہوں گے۔
ایک تخمینے کے مطابق افریقہ بھر میں تین کروڑ سے زیادہ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور گذشتہ سال اس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
ان میں سے ایک تہائی افراد ایتھوپیا میں رہتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انھیں آئندہ سال 2016 میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہوگی۔
برطانیہ کے انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے شعبے کا کہنا ہے کہ وہ 26 لاکھ افراد اور تقریباً سوا لاکھ بچوں کو ہنگامی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جنوری سنہ 2016 سے 80 لاکھ افراد کو کھانا یا اس کے لیے رقم فراہم کریں گے۔

150817153845_150805025017_nino_624x351_reuters

بہت سے ممالک میں ابھی سے غذا کی کمی محسوس ہونے لگی ہے
دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تقریبا چھ کروڑ افراد جنگوں کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ آکسفیم جیسے ادارے کا کہنا ہے کہ شام، جنوبی سوڈان اور یمن میں جاری جنگوں کے موجودہ دباؤ پر سنہ 2016 کا ال نینیو تشویشناک اثرات مرتب کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں غذا کی کمی فروری میں شدید ہوگی اور ملاوی میں 30 لاکھ افراد کو مارچ سے قبل انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کی ضرورت ہوگی۔ جبکہ گوئٹےمالا، ہینڈورس، ال سلواڈور اور نکاروگوا میں بارش کی کمی اور بارش کی زیادتی دونوں سے تقریباً 20 لاکھ افراد متاثر ہوں کے جبکہ وسطی امریکہ میں جنوری میں مزید سیلاب کا امکان ہے۔
آکسفیم کی جین کوکنگ نے کہا: ’ایتھوپیا، ہیئٹی اور پاپوا نیو گنی میں ابھی سے لوگ خشک سالی اور فصل نہ ہونے سے متاثر نظر آنے لگے ہیں۔ ہمیں ان علاقوں میں فوری طور پر امداد پہنچانے کی ضرورت تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہاں کھانے پینے کی کمی نہ ہو۔‘

151209124942_namibia_drought_640x360_bbc_nocredit

ال نینیو کے تحت بعض علاقوں میں بارش کی کمی کے سبب قحط سالی کا بھی سامنا رہے گا
انھوں نے مزید کہا: ’ہم دوسری جگہ اس بڑے پیمانے پر ناگہانی صورت حال پیدا نہیں ہونے دے سکتے۔ اگر دنیا جنوبی افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بحران پیدا ہونے کے انتظار میں رہی تو ہم ان سب سے نبردآزما نہں ہو سکتے۔‘
ترقی پزیر دنیا کے بعض علاقوں میں ال نینیو کا براہ راست اثر نظر آئے گا جبکہ ترقی یافتہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں یہ جلوہ گر ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …