اتوار , 26 مارچ 2017

عظیم باکسر محمد علی کی زندگی کا جائزہ

٭ باکسنگ کی دنیا کے عظیم ترین باکسر محمد علی کا پیدائشی نام کیسس مارسیلس کلے تھا،
٭ 17 جنوری 1942ء کو امریکا کی ریاست لوئسولی کنٹکی میں ہیدا ہوئے۔
٭ 1965ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام محمد علی رکھ لیا۔
٭ محمد علی کا مختصر نام ’’دی گریٹیسٹ‘‘ ، ’’دی چیمپیئن‘‘ ، لوئسولی لپ‘‘ اور صرف ’’ علی‘‘ تھا۔
٭ محمد علی نے چار شادیاں کی تھیں جس میں سے اسکی سات بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔
٭ اس کا قد 91.1 میٹر (6 فٹ ، 3 انچ) تھا۔
٭ محمد علی نے 1960 کے روم میں منعقدہ سمر اولمپک میں لائٹ ہیوی ویٹ ڈویژن میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
٭ محمد علی نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں لکھا ہے کہ اس نے یہ میڈل اہویو کے دریا میں بطور احتجاج پھینک دیا تھا کیونکہ امریکہ کے ایک ہوٹل نے اسے اپنی خدمات دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ ہوٹل صرف گوروں کے لیے مخصوص تھا۔
٭ محمد علی اپنے باکسنگ کیریئر میں میچ سے پہلے اپنے حریف کے بارے میں انٹرویو دینے کی وجہ سے مشہور تھا کہ وہ کس طرح اپنے مخالف کو شکست سے دوچار کرے گا۔
٭ 1999ء میں محمد علی کو ’’صدی کے بہترین کھلاڑی‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ بی بی سی نے اسے کھیل کے میدان میں’’صدی کی بہترین شخصیت‘‘ قرار دیا تھا۔
٭ 1965ء میں محمد علی کلے نے صرف بائیس (22) سال کی عمر میں ریجنگ ہیوی ویٹ چیمپیئن شپ میں لسٹن کو شکست دے دی۔ یہ کسی بھی کم عمر ترین باکسر کا پہلا اعزاز تھا۔

اسلام قبول کرنا:
٭ 1965ء میں ہی محمد علی ایک امریکن/افریقن مسلمان مذہبی رہنما الحاج محمد جو کہ امریکہ میں مسلمانوں کی مذہبی تحریک نیشن آف اسلام کے سربراہ تھے کی تحریک میں شامل ہو گئے۔
٭ 1975ء میں اس نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔
٭ 2005ء میں وہ مسلمانوں کے صوفی مکتب فکر سے منسلک ہو گئے۔

ویتنام جنگ:
٭ 1966ء میں امریکہ ویتنام جنگ کے دوران محمد علی نے اس جنگ کی مخالفت کی اور ایک بیان میں کہا کہ ویتنام سے میری کوئی لڑائی نہیں، ویتنام کے لوگوں نے کبھی بھی مجھے حقارت سے ’’سیاہ آدمی‘‘ نہیں کہا۔
٭ 1967ء میں محمد علی کو ویتنام جنگ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا اور اس کی پاداش میں اسے پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ اگرچہ اسے جیل نہیں بھیجا گیا لیکن اسے اگلے چار سال تک باکسنگ کے کسی بھی مقابلے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بعد ازاں امریکی صدر نے اسے خصوصی اختیارات کے تحت اجازت دے دی۔

باکسنگ کیرئیر:
٭ پورے باکسنگ کیرئیر کے دوران محمد علی نے 61 مقابلوں میں حصّہ لیا۔ 56 میں کامیابی حاصل کی، 37 بار وزن کی کیٹیگری میں فتح حاصل کی اور صرف 5 بار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
محمد علی کی ایک کہاوت بہت مشہور تھی، وہ کہا کرتا تھا ’’تتلی کی طرح فضا میں پرواز کرو اور مکھی کی طرح ڈنک مارو‘‘ یعنی غیر روایتی انداز میں مقابلہ کرو۔

صدی کا سب سے بڑا مقابلہ:
ویتنام کی جنگ میں مخالفت کی سزا کی وجہ سے محمد علی چار سال تک باکسنگ کے میدانوں سے دور رہے جس کے بعد 8 مارچ 1971ء کو محمد علی دوبارہ باکسنگ کے میدانوں میں جلوہ افروز ہوئے۔ یہ میدان میڈیسن اسکوائر گارڈن کا تھا جس میں محمد علی اور جو فریزر کا آمنا سامنا تھا۔
اس مقابلے کو صدی کا سب سے بڑا مقابلہ قرار دیا گیا۔ بدقسمتی سے محمد علی کو پہلی بار کسی پرہفیشنل مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

رمبل ان جنگل:
30 اکتوبر 1974ء کو کانگو کے دارلحکومت کنشاسہ میں محمد علی نے جارج فور مین کو ایک تاریخی مقابلے میں شکست دے کر اپنا اعزاز واپس حاصل کر لیا۔
یہ باکسنگ کی تاریخ کا سب سے غیر معمولی مقابلہ تھا جس میں محمد علی نے اٹھویں راونڈ میں ناک آوٹ کر دیا۔
محمد علی کو رنگ میگزین کی جانب سے سب سے بار ’’فائٹر آف دی ائیر‘‘ قرار دیئے جانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اسکے علاوہ دوسرے کئی میگزینز نے بھی کسی بھی دوسرے فائٹر سے زیادہ محمد علی کو ہی ’’فائٹر آف دی ائیر‘‘ قرار دیا۔

باکسنگ کے بعد:
اپنے باکسنگ کیریئر کے اختتام کے بعد محمد علی نے اپنی زندگی انسانی فلاح و بہبود، سماجی خدمات، انسانیت کی خدمت اور امن کے لیے وقف کر دی اور سماجی بہبود کے بہت سے منصوبوں پر کام کیا۔
٭ محمد علی کی ایک بیٹی لیلیٰ علی بھی باکسنگ کے میدان میں آئی۔
٭ 19 نومبر 2009ء جو کہ محمد علی کی شادی کی 19 ویں سالگرہ کا دن بھی تھا کو لوئسولی میں 60 ملین ڈالرز کے غیر منافع بخش محمد علی سینٹر کا افتتاح کیا گیا۔
٭ 3 جون 2016ء کو امریکی ریاست سکاٹس ڈیل ایری زونا میں 74 سال کی عمر میں تاریخ کے اس عظیم ترین باکسر نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی صدر محمود عباس کی زندگی کاجائزہ

پیدائش: 1935ء مقام پیدائش: سیفد،فلسطین زوجہ: امینہ عباس اولاد: تین بیٹے میزن (15 جون 2002ء) ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے