جمعہ , 24 نومبر 2017

شام جنگ کی اصل کہانی کیا ہے؟

 

 

شام کی سرزمین پر اب امریکہ اور روس آنے سامنے آگئے ہیں۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ یہ جنگ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف لڑرہے ہیں مگر حقیقت میں یہ جنگ صرف اور صرف اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہے۔ اسرائیل کو ہمیشہ سے ہی دو قوتوں سے خطرہ رہا ہے جن میں حزب اللہ اور ایران سر فہرست ہیں‌اور امریکہ کی جانب سے ہزار ہا دھمکیوں‌اور پابندیوں‌کے با وجود دونوں قوتیں فلسطینیوں کی حمایت سے باز نہیں آئیں۔ امریکہ پر ہمیشہ اسرائیل کا دباؤ رہا ہے کہ وہ ان دونوں‌قوتوں کی تباہی کے لیے اقدامات کرے مگر چونکہ امریکہ ایران اور حزب اللہ پر براہ راست حملہ کرنے کے ہمت نہیں کر سکتا اس لیے ان دونوں قوتوں کو کمزور کرنے کے لیے شام جنگ کا مکمل منصوبہ بنایا گیا۔
امریکہ اور اس کے حواری اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ شام میں اگر سعودی عرب اور تکفیری گروپوں کو مضبوط کیا جائے تو لامحالہ ایران اور حزب اللہ بشار الاسد کے بچاؤ‌کے لیے میدان میں کودیں گے اور انہیں شام میں پراکسی جنگ کے ذریعے کمزور کر دیا جائے گا۔ امریکہ کا منصوبہ بلا شبہ بے داغ اور کامیاب تھا مگر شومئی قسمت شام میں روس کی مداخلت سے نہ صرف تکفیری گروپوں کو شکست فاش ہوئی بلکہ امریکہ کا ایران اور حزب اللہ کو توڑنے کا خواب بھی خاک میں مل گیا۔ شام میں حلب میں شکست کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ دہشت گرد گروپ نہ صرف شام سے فرار ہو رہے ہیں بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا بھی شکار ہو گئے ہیں اور شام میں شکست کا اعتراف کر رہے ہیں۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

بھارت کے ساتھ اتحاد سے امریکی مقاصد

امریکہ اس علاقے میں چین کے مقابلے میں انڈیا کی سربراہی میں ایک اتحاد بنا ...