اتوار , 25 جون 2017

یہ سب امریکہ کی سازش ہے

(فیصل قریشی)
ماہ اکتوبر کا پہلا جمعہ تھا، میں نہا دھو کر نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد پہنچا، تو خطبے کے دوران امام صاحب نے 8 اکتوبر 2005 کو ملک میں ہونے والی زلزلہ کی تباہی کا ذکر کیا اور فرمانے لگے کہ یہ سب ہمارے گناہوں کے سبب عذاب تھا۔ ہم ٹی وی پر ناچ گانوں کی طرف راغب ہوگئے ہیں۔ ہم پر بم دھماکے اور دیگر دہشت گردی بھی ایک عذاب کی طرح ہی مسلط کی گئی ہیں جو کہ امریکہ کی سازش ہے، یہ زلزلے فحاشی اور ہمارے میڈیا کی ہی مرہون منت ہیں، جو کہ مغرب کی دین ہے۔ مغرب اپنے تعلیمی نظام کے ذریعے یہاں بھی تباہی پھیلا رہا ہے، وہ ہماری نوجوان نسل کو تباہ کرکے ہم پر قبضہ کرے گا۔
آپ ٹی وی پر اسلامی پروگرام دیکھ سکتے ہیں، امام صاحب نے اجازت دینے کے انداز میں فرمایا، اب جو میں نے غور فرمایا تو امام صاحب جس مغرب کی فتنہ پروریوں کا ذکر رہے تھے اُسی مغرب کی ایجاد، لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے چِلا رہے تھے کہ اپنے بچوں کو مغربی تعلیم دلوا کر تباہی کی طرف نہ دھکیلو بلکہ دین کی تعلیم دلواؤ کیونکہ اسکولوں اور کالجوں میں بے حیائی سکھائی جارہی ہے۔ واعظ صاحب کے اس زور و شور کو سن کر آنجہانی پیٹر ایل جینسن صاحب (لاؤڈ اسپیکر کے موجد) کی روح بھی چیخ اُٹھی ہوگی کہ آخر میں نے لاؤڈ اسپیکر ایجاد ہی کیوں کیا؟اِسی اثناء میں گناہ گار مغرب کی ایجاد بجلی بھی دھوکا دی گئی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نافذ لوڈ شیڈنگ کا آغاز ہوا۔ اسپیکر بند ہوگیا اور امام صاحب نے فوراََ آہستہ آواز میں مدرسہ کے طالب علم سے یو پی ایس کی بابت دریافت کیا۔ دھیمی آواز میں نہ جانے کیا کہا کہ مغربی موجد ایلیسانڈر وولٹا صاحب (بیٹری کے موجد) کی روح بھی شرما گئی ہوگئی۔ بہرحال امام صاحب نے بغیر لاؤڈ اسپیکر اپنا خطبہ شروع کیا، اور مزید فرمانے کے بعد دعا کا سلسلہ شروع ہوگیا۔’’اللہ ہمیں اپنے بچوں کو اسلام کی تعلیم دینے کی توفیق عطا فرما، اور اللہ بہت جلد امریکہ کو تباہ کردے۔ آمین‘‘
نماز کی ادائیگی کے بعد میں گھر کی جانب روانہ ہوا تو ملک صاحب بھی ساتھ ہوچلے۔ ملک صاحب اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں اور اکثر اخبار کا مطالعہ کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے مولانا صاحب کی بات سے مکمل اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب اور دیگر اسلامی ریاستوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ، دیکھو وہاں کتنی خوشحالی اور ترقی ہے۔ ہمیں مغربی تعلیم اور سب چیزوں کا مکمل بائیکاٹ کردینا چاہیئے۔ میں چہرے پر اُن کی باتوں سے اتفاق کے آثار نمودار کئے خاموشی اور معصومیت سے سُن رہا تھا، اِسی اثناء میں انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے جیب کی جانب بڑھاتے ہوئےکہا۔ بیٹا! مجھے ذرا اِس موبائل فون کی سیٹنگ کروانی ہے، بیٹے سے بات کرنے کی غرض سے رکھا ہے۔ مجھے اِس کی زیادہ سمجھ نہیں ہے۔
موبائل فون اُن کے ہاتھ سے لے کر میں نے سیٹنگ کا آپشن کھولا اور کام کرنے لگا۔ کام کرتے کرتے میں نے اُن سے ایک سوال کیا۔ انکل گناہ کی تعریف کیا ہے؟ یعنی گناہ کیا ہے؟ جس کی بناء پر ہم مغرب کو گناہ گار ٹھہراسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا بیٹا، جو مغرب میں ہورہا ہے وہی گناہ ہے۔ فحاشی، نوجوان نسلوں کو تباہ کرنا، سازشیں وغیرہ وغیرہ، اور بے راہ روی میں ہم بھی ان کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں۔ اتنی دیر میں اُن کی مطلوبہ سیٹنگز بھی ہوچکیں تھیں، میں نے گناہ زدہ مغرب کی ٹیکنالوجی کے ذریعے جی میل اکاؤنٹ بنا کر اُن کے مطابق ترتیب کردی جس پر اُنہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور گھر کی جانب چل دئیے۔گھر کی طرف رواں دواں میں سوچ رہا تھا کہ، ارے انکل مانا کہ ہمیں ایسے گناہوں کی سزا مل رہی ہے پر شاید فحاشی کی نہیں اگر فحاشی کی وجہ سے عذاب آتا تو اللہ امریکہ پر نازل کرتا، مانا کہ مغرب میں برائی ہے، مگر وہ لوگ مذہب سے دور نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کا کوئی مذہب ہی نہیں، اور انکل میرے خیال سے سعودی عرب ایک ترقی یافتہ ملک نہیں ہے، جس کا پورے کا پورا انحصار تیل پر ہے جو کہ تیل نکالنے والی ریفائنری تک گناہ گار امریکہ کو استعمال کررہے ہیں۔ یہی حال دیگر مسلم امیر ریاستوں کا ہے۔
اور ہاں انکل، گناہ یہ ہے کہ ایک چیز کو ہم غلط مانتے ہوئے بھی اسے انجام دے رہے ہوں، اُس سے لطف اندوز ہورہے ہوں، ہم فلمی اداکاروں کو بُرے بُرے نام دیتے ہیں، لیکن اِن کے گانے اور فلمیں بڑے شوق و ذوق سے دیکھتے ہیں یعنی ہمیں پتا ہے کہ ہم گناہ کررہے ہیں پھر بھی ہم ضرور کرتے ہیں۔ جب کہ مغرب میں جس چیز کو گناہ تصور ہی نہیں کیا جاتا، اُس چیز کے کرنے پر وہ گناہ گار کیسے؟ ان کے نزدیک گناہ، چوری، ڈکیتی، جھوٹ، زیادتی، اور حق مارنا ہے جو وہ نہیں کرتے یا شاید بہت کم۔
ہم خواتین کو آزادی دینے اور اِن کی تعلیم کے حق میں نہیں پر دوسری خواتین کی اسی تعلیم سے ہم مستفید ہوتے ہیں۔ ہماری اپنی خواتین کچن کی زینت ہیں اور جب کوئی ہمارے گھر کی خاتون بیمار ہوجائے تو علاج کیلئے خاتون ڈاکٹر کے پاس ہی لے جانا چاہیں گے۔اب یہ ہم پر ہے کہ ہم یا تو ٹیکنالوجی اپنی بنالیں اور یورپ کا مکمل بائیکاٹ کرلیں، یا پھر مغربی تعلیم پر تنقید کرنا چھوڑ دیں۔ جہاں تک دین کو چھوڑنے کی بات ہے تو دین صرف فحاشی اور گانے سننے اور مغرب کی پیروی سے نہیں روکتا بلکہ وہ ہر ہر طرح کے گناہوں سے روکتا ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

یمن کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

(بقلم: عادل فراز) سعودی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ منصور ہادی اور عبداللہ صالح کو ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے