جمعہ , 24 مارچ 2017

1950ء سے لیکر اب تک 4لاکھ یمنی یہودی بچے لاپتہ !!!

یروشلم (مانٹیرنگ ڈیسک)اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ 1950ء سے لیکر اب تک 4 لاکھ یمنی یہودی بچے لاپتہ ہوئے ہیں، حکام کے مطابق لاپتہ ہونے کے واقعات 1950ء میں شروع ہوئے تھے، جب یمن سے اسرائیل کے لیے یہودیوں کی منتقلی کا عمل شروع ہوا تھا۔
واضح رہے کہ یمنی یہودی بچوں کا یہ معاملہ ایک گھمبیر معاملہ ہےاور متعدد کیسز میں بچوں کو اسرائیلی ہسپتال یا پھر نقل مکانی کرنے والوں کے کیمپس سے اغواء کیا گیا۔یمنی یہودی بچوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات اسرائیل میں عام ہیں۔ جن کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ ان بچوں کو اسرائیل سے باہر موجود یہودی گھرانوں کےحوالے کردیا جاتا ہے۔
اسرائیلی حکومتیں ہمیشہ سے ان معاملات کی تحقیقات میں رکاوٹ بنی رہیں، حکومتوں کا کہنا ہے کہ لاپتہ بچے زندہ نہیں جبکہ بچوں کے والدین کو نہ تو بچوں کی لاش دی گئی اور نا ہی بچوں کی قبروں کی نشاند ہی کی گئی ۔

یہ بھی دیکھیں

یمن میں انسانی المیہ رونما ہوچکا ہے : روسی وزیر خارجہ

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک ) روس کے وزیر خارجہ نے یمن کے حالات کو المیہ قرار دیتے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے