ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

امریکا سپر پاور ،نہیں رہا

 

(تسنیم خیالی)
1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تصور قائم ہوا کہ امریکہ دُنیا کی اکلوتی سپر پاور ہےاور اس تصور کو قائم رکھنے کے لئے امریکی نے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا ،امریکیوں کو اس معاملے امریکہ کے مدمقابل کوئی دوسری طاقت کا نہ ہونا امریکا کے اس تصور کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوا مگر سپر پاور کا یہ تصور اب ختم ہوتا جارہا ہےاور دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ متاثرہ ہوتی جارہی ہے ۔امریکہ کے آگے اب روس اور چین کھڑے ہو چکے ہیں اورخود کو کافی حد تک دنیا سے منوا چکے ہیں۔
روس نے شروع دن سے ہی شام اور بشار الاسد کے حق میں موقف اپناتے ہوئے امریکی منصوبوں پر پانی پھیردیا۔امریکہ شام کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کرنے کا خواہش مند تھا مگر روس نے امریکہ سے مقابلہ کرتے ہوئے شام کو اس حملے سے بچائے رکھا اور بالا آخر شام میں دہشت گردوں کیخلاف فوجی کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں حلب کو شامی افواج کیساتھ ملکر آزاد کرایا۔ حلب کی آزادی امریکا اور اسکے اتحادیوں کے لیے سب سے بڑی شکست ثابت ہوئی اور یوں روس امریکہ کے سامنے ایک نئی فوجی طاقت کے روپ میں ابھر آیا۔
چین اگرچہ فوجی لحاظ سے امریکہ سے کم تر ہے مگر اقتصادی لحاظ سے امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ،چین میں برق رفتار ی سے چلنے والی اقتصادی ترقی امریکی اقتصاد کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا چکا ہے۔ جس کا ادراک امریکیوں کو بھی ہے۔ چھوٹے ممالک بھی امریکا کی دیومالائی ساکھ کو متاثر کرنے میں پیچھے نہیں رہے۔ ایران کیساتھ جوہری معاہدہ طے ہونا امریکہ کے لیے بڑی ناکامی ثابت ہوئی،ایران دہائیوں تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا جس کا پھل انہیں جوہری معاہدے کی صورت میں ملا۔
فلپائن جیسا چھوٹا اور کمزور ملک بھی آج کل امریکہ کی تذلیل کررہا ہے۔فلپائن صدر رڈریگو دوشیرنی بلا خوف و جھجگ امریکیوں للکارتا اور گالیاں دیتا رہتا ہے اوریہاں تک کہ یہ بھی کہہ ڈالتا ہے کہ فلپائن کو امریکہ کی ضرورت نہیں۔ امریکہ کےاہم اتحادی ترکی نے بھی امریکہ سے نالاں ہوتے ہوئے روس کیساتھ ہاتھ ملا لیا ہےاور امریکہ سے دوری اختیار کرچکا جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اپنا ایک اہم اتحادی کھو بیٹھا ہے۔ پاکستان بھی جو کسی وقت میں جنوبی ایشیا میں امریکہ کا اہم اتحادی تھا اب امریکہ سے کافی حد تک دوری اختیار کر چکا ہے اور بدلے میں چین اور روس سے زیادہ قریب ہوچکا ہے۔
مشرق سے لیکر مغرب تک امریکہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور امریکہ اپنے کئی اتحادیوں سے دور ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ کی متاثرہ ساکھ پر ایک اور وارتب ہوا جب ماسکو میں شام کے حوالے سے ایران، روس اور ترکی کے درمیان اجلاس ہوا اس اجلاس میں شام کے متعلق کئی اہم فیصلے ہوئے مگر اس اجلاس میں امریکہ کو مدعو نہیں کیا گیاجس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان ممالک نے امریکہ کو اس کی اصل حیثیت دکھادی ۔اجلاس میں نابلانے پر امریکہ آگ بگولہ تو ہوا (اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا)اس فریقی کاوش سراہا ضرور۔
دور ِ حاضر میں اب یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ امریکہ اب سپر پاور ‘نہیں رہا اور شاید کبھی تھا بھی نہیں‘‘۔بدمعاشیاں، زور زبردستی اور طاقت کی زبان کا دور گزر چکا ہے اور اب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے آنے سے امریکہ کی رہی سی ساکھ بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائیگی۔

یہ بھی دیکھیں

سول ملٹری تصادم: قومی مفاد کا رکھوالا کون؟

(سید مجاہد علی)  وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کہہ کر کہ آرمی چیف کو ...