جمعہ , 24 مارچ 2017

نیتن یاہو ٹرمپ دور میں عربوں سے قریب ہوں گے

اسرائیلی اخبار’’معارف‘‘نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سیاسی طور پر عرب ممالک سے تعلقات استوار کرنے پر کام کررہے ہیں اور ٹرمپ دور حکومت کے پہلے سال میں ہی اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری ہوگی بالخصوص سعودی عرب کیساتھ ۔ اس حوالے سے ٹرمپ انتہائی خفیہ طور پر کام کررہے ہیں نیتن یاہوکے اس منصوبے کا انحصار ٹرمپ اور سعودی عرب پر ہے۔
اخبار کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیانات سے اشارے ملتے ہیں کہ اسرائیل ،ٹرمپ اور سعودی عرب کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں تبدیلی کی کئی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک ایران ہے جو سعودی عرب اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن ہے۔ معارف نے واضح کیا کہ مصر کی یہودی بستیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں قرارداد واپس لینے کے پیچھے اسرائیل اور عرب ریاستوں کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ فلسطین ہے۔
اخبار کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو فلسطینیوں کیساتھ قیام امن دلچسپی لیتے ہیں،مگر مزید کہنا تھا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی اصولوں کو فلسطینیوں پر آزمانے کی کوشش کررہے ہیں جوکہ درج ذیل ہیں۔
۱۔ ایسے بیت المقدس کے قیام کو عمل میں لانا جو اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کی ساتھ ساتھ اُس میں مسلمان اور مسیحیوں کی بھی جگہ ہو اور انہیں مکمل دینی آزادی حاصل ہو۔
۲۔ اسرائیل کی سرحدوں کا تعین کرنا۔
۳۔ 1967ءوالی اسرائیلی حد میں واپس نہ آنا۔
۴۔ فلسطین اسرائیل سے چھوٹا ہونا چاہیے۔
اخبار کے مطابق فلسطینی کبھی بھی اس صورت حال کو قبول نہیں کرینگے جبکہ نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے بہت سے عرب ممالک کو نیتن یاہو کے منصوبے کو پورا کرنے میں مشکل ہوگی۔
اخبار کا مزید کہنا تھا کہ نیتن یاہو کو فی الحال متعدد کرپشن کیسسز کا سامنا ہے اور وہ اپنا تصور بہترکرنے کیلئے سیاسی فتح کی تلاش کرینگے۔
بشکریہ الوقت نیوز

یہ بھی دیکھیں

23 مارچ کے تقاضے

(سید مجاہد علی ) ایک بار پھر پوری قوم یوم قرار داد پاکستان منانے کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے