جمعہ , 23 جون 2017

پلوٹو پرسیکڑوں میٹربلند برفیلے مینار پائے جاتے ہیں: امریکی خلائی ادارہ ناسا

پیساڈینا(مانیٹرنگ ڈیسک )کیلیفورنیا: ناسا کی جانب سے پلوٹو کی جانب ایک جدید ترین خلائی جہاز بھیجا گیا تھا جس کی تصاویر پر اب بھی تحقیق ہورہی ہے اور اب انکشاف ہوا ہے کہ پلوٹو پرسیکڑوں میٹربلند برفیلے مینار پائے جاتے ہیں۔سائنس سے متعلق بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے نیچرمیں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا نے ہمارے نظام شمسی کے سب سے دوردرازسیارے پلوٹوسے متعلق معلومات کے حصول کے لیے نیوہورائزن نامی خلائی جہاز روانہ کیا تھا۔
جسے پلوٹو کے مدار تک پہنچنے میں کم و بیش دس سال کا عرصہ لگا تھا اور اس نے 2015 میں پلوٹو کا ڈیٹا اور تفصیلی تصاویر زمین کی جانب روانہ کی تھیں۔ ان تصاویر اور معلومات کا اب تک تجزیہ کیا جارہا ہے اور اب انکشاف ہوا ہے کہ پہلی مرتبہ زمین کے علاوہ نظامِ شمسی میں کسی اور جگہ بھی برف کے مینار پائے جاتے ہیں ۔ زمین پر قدرتی طور پر برف کے ڈھیر سے بنا مینار کبھی بھی اتنا بلند نہیں دیکھا گیا ہے۔
پلوٹو کے علاقے ٹارٹارس ڈورسا میں یہ مینار پائے جاتے ہیں جنہیں ناسا نے برف کے ٹاور کہا ہے۔ یہ سخت برف یا ٹھوس گالوں سے بنے ہیں اور سورج کے رخ پر قدرے جھکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ناسا کے سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ جب تصاویر میں ان میناروں کے خدوخال دیکھے تو انہیں زگ زیگ شکل کی نیلی اور بھوری دھاریوں کا نام دیا جن کے درمیان کوئی سرخ رنگ کی شے تھی۔

یہ بھی دیکھیں

80 مربع کلومیٹر پر نظر رکھنے والا، ایک ارب پکسل کا ڈرون کیمرہ

تل ابیب، اسرائیل(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ایلبیٹ سسٹمز نے ایک ایسا کیمرہ بنایا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے