جمعہ , 24 مارچ 2017

جب بھی جمہوریت کو ہلکا لیا تو وہ خطرے میں پڑ جاتی ہے: اوباما کا الوداعی خطاب

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر براک اوباما نے شکاگو میں قوم سے الوداعی خطاب میں امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی جمہوریت کا دفاع کریں۔اوباما نے اپنے آخری خطاب میں اپنی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور تمام امریکیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ’امریکہ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘تاہم انھوں ںے خبردار کیا کہ ’جب بھی جمہوریت کو ہلکا لیا تو وہ خطرے میں پڑ جاتی ہے۔‘انھوں نے ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے امریکیوں سے کہا کہ ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ ’ہمیں اوروں کو توجہ دینی اور سننا ہے۔‘
٭وائٹ ہاؤس خاندانی کاروبار نہیں ہے: اوباما
براک اوباما نے اپنے روایتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی امریکی جمہوریت کی علامت ہے۔ان کے بعد اقتدار اب نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو منتقل ہو گا، جو کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر اوباما کی جانب سے کیے جانے والے بعض معاہدے ختم کر دیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ 20 جنوری کو بطور امریکی صدر عہدہ سنبھالیں گے۔اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا تھا کہ اوباما ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں سمیت ہر امریکی سے مخاطب ہوں گے۔
براک اوباما نے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس سے الواداعی خطاب کرنے کی بجائے اسی جگہ (یعنی شکاگو) جانا چاہتے تھے ’جہاں سے ان کے اور خاتون اول مشیل اوباما کے لیے یہ سب شروع ہوا تھا۔‘یہ براک اوباما کا شکاگو کا آخری دورہ اور ایئر فورس ون پر 445واں سفر ہے۔ امریکی صدر نے 2008 میں منتخب ہونے کے بعد پہلا خطاب بھی شکاگو ہی میں کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’آٹھ سال پہلے کی نسبت اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے بہتر اور مضبوط جگہ ہے۔‘
امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر جن کی عمر اس وقت 55 برس ہے، پہلی مرتبہ 2008 میں امید اور تبدیلی کے وعدوں پر منتخب ہوئے تھے۔شمالی امریکہ کے سب سے بڑے کنونشن سینٹر میک کورمک پلیس جہاں صدر اوباما نے 2012 کے صدارتی انتخاب میں مٹ رومنی کو شکست دینے کے بعد خطاب کیا تھا، وہاں بدھ کے روز ان کے الوداعی خطاب میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اطلاعات کے مطابق 20 ہزار سے متجاوز تھی۔الوداعی تقریب میں امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما، نائب صدر جو بائڈن اور ان کی اہلیہ جل بائڈن موجود تھے۔

یہ بھی دیکھیں

صہیونیوں کی اکثریت ایران کے جوہری پروگرام پرمعاہدے کے خلاف:سروے

تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک )اسرائیل میں رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے میں کہا گیا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے